fbpx

جمعرات بھری مراد تحریر:م۔م۔مغلؔ

چھ ہزار سال قبل کا ایک غیر ارادی عمل جس نے چار کروڑ انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، دروغ برگردنِ راوی کے مصداق ہمارا ذاتی طور پراس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص راستہ بھٹک کر جنگل کی سمت نکل گیا، ابتدا میں تو اسے کسی شے کا خوف نہ تھا مگر چلتے چلتے جوں جوں جنگل گھنا اور مہیب ہوتا گیا اس کے اعصاب پر عجیب خوف سا طاری ہوتا گیا، جنگلی جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کی چہکار فضا میں پرکیف نغمے گھول رہے تھے، اچانک بندروں کی ایک ٹولی نے اپنے ہم شکل کو دیکھا تو جوق در جوق زیارت کو جمع ہونے لگے اور خوخیا کر باقی ماندہ برادری کو دعوتِ نظارہ دینے لگے، بیچارہ بھٹکا ہوا شہر باسی ان بن باسیوں کی جانب سے پڑنے والی اس اچانک افتاد پر گھبرا کر بیٹھ گیا، بندروں نے سہمے ڈرے شخص کی گھبراہٹ کا فائدہ فیض کے ضرب المثل مصرع کی گردان کرتے ہوئے خوب اٹھایا، ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اب کیا تھا کبھی ایک بندر شاخوں پر جھولتا ہوا نیچے اترا اور بیچارے کے سر پر دھول جما کر یہ جا اور وہ جا تو کبھی دوسرا، باقی بندروں کو تو جیسے کورونا کے لاک ڈاؤن کی فراغت کے ایام جیسا ایک مشغلہ سا مل گیا، باری باری بندر جھولتے لپکتے اور دھول جما کر پھدکتے ناچتے خوخیاتے۔۔ اس بساطِ دھماچوکٹری میں ایک نوجوان بندر نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور بھٹکے ہوئے شخص کا سامان اٹھا لیا اور چھلانگ مار کر درخت کی اونچی شاخ پر جا براجمان ہوا، مفلوک الحال شخص نےاس ناگہانی پر گھبرا کر جوتا اتارا اور نوجوان بندر کو دے مارا، شومئی قسمت جوتا درخت کی شاخ میں الجھ گیا، نوجوان بندر نے اس حرکت کا بھی خوب فائدہ لیا اور شاخ پر ہی رقص کرنا منھ چڑانا شروع کردیا، طیش میں آکر راہ سے گم کردہ شخص نےجذبات سے مغلوب ہوکر دوسرا جوتا بھی کھینچ مارا، جو نوجوان بندر کے رخسار کا بوسہ لینے کے بعد اسی شاخ پر جا مصلوب ہوا، اب ایک کو پڑی تو باقی بندروں کے ہوش ٹھکانے آئے یوں بندروں کی ٹولی خوخیاتے ہوئے فرار ہوگئی، راہ گم کردہ ضعیف شخص وہیں درخت کے نیچے تھک ہار کر سو رہا۔۔۔شنید ہے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھوک کے ہاتھوں مجبور مکان سے بے نیاز وہ شخص وہیں پڑے پڑے دنیا سے رخصت ہوگیا، موسموں نے اس کی لاش پر پتے گرائے ، وقت نے دھول اوڑھائی یوں مفلوک الحالی کی قدرتی قبر زمین کے سینے پر نقش ہوگئی، بعد ازں بھٹک بھٹک کر جنگل آنے والے اسی راستے سے گزرتے تو درخت پر لٹکے جوتے دیکھ کر ٹوٹکے کے طور پر اپنے جوتے بھی درخت کی شاخوں پر آویزاں کرنے لگے کہ کسی مراد کی شاخ کو پھل لگ جائے، ایک وقت وہ آیا کہ درخت پرپتوں کی بجائے جوتے ہی نظر آنے لگے ، کرتے کرتے جنگل شہر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔۔ کہتے ہیں مفلوک الحال شخص کی قبر پر حاضری دینےکے بعد جنگل کے ٹمبر مافیا اور اس کی اولاد بعد ازاں سیاسیات کے کارزار کی جانب چل پڑی، قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ وہی جنگل ہے جس پر ٹمبر مافیا کی نسلیں راج کرتی ہیں، چھ ہزر سال قدیم تہذیب کا چسکا ایسا لگا کہ اب اس شخص کی اولادیں اس جنگل نمابھٹوستان یا بھوتستان صوبے کی حکومت کوجوتوں والا شجر سمجھ بیٹھی ہیں اب اس جنگل میں مفلوک الحال شخص کی قبر کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان خاندان کے جدِ امجد کی قبر موجود ہے۔۔۔

قصہ کوتاہ انسان کے بنائے ہوئے جراثیمی ہتھیار نے جہاں اقوامِ عالم کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں ایشیا کے ملک پاکستان میں شامل سندھ کی حکومت کی موج مستی اور عیاشی کا سامان ہوگیا، بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیرہویں بڑے شہر کراچی پر نام نہاد جمہوری عفریت نے اپنے دانت ایسے گاڑ رکھے ہیں جیسے ڈریکولا فلموں کے کردار سندھ کا رخ کرچکے ہوں۔۔۔ ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دے کر جو گناہ کراچی کے عوام نے کمایا ہے اس کی پاداش میں اس نام نہاد جمہوری بھوت نے شہر کو آسیب زدہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر گزشتہ مسلسل تیرہ برس سے مسلط سندھ سرکار عوام الناس سے روٹی کپڑا مکان نہ صرف چھین رکھا ہے بلکہ پانی بجلی صحت صفائی کے معاملات سے لا تعلق ہوکر اپنی جیبیں بھرنے پر زور دیا ہوا ہے، اقتدار کی روشنیاں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار اورمزار کے احاطے تک محدود ہیں، صوبے بھر میں حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کتوں کا راج ہے جو جب چاہے کسی کو بھی کاٹ کھاتے ہیں بچوں کو بھنبھوڑ لیتے ہیں، ۔۔۔امن امان کی صورتحال کے بارے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ صوبہ بدامنی چوری ڈکیتی قتل کی اس نہج پر ہے جہاں قانون صرف کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ کورونا وبا کے نام پر سندھ کے باقی شہروں سے بڑھ کر پورے کراچی بالخصوص ضلع وسطی میں بسنے والوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی روش شہر میں لسانی عصبیت کا شاخسانہ ہے، بغور مشاہدہ ہے کہٍ اندرون سندھ میں اور کراچی میں افغان کوئٹہ وال ہوٹلوں اور چائے خانوں کے لیے نرمی جبکہ دیگر قومیتوں والے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری زیادہ تعینات ہے، وہ پولیس جسے کسی ہنگامی صورت میں مددگار پر کال کی جائے تو حیلے بہانے پیٹرول ڈیزل نہ ہونا یا موبائلوں کی کمی یا پھر نفری کی کمی کا رونا ہوتا ہے وہی پولیس فلمی انداز سے مخصوص علاقوں میں تھوک پرچون چھابڑی والوں پر پل پڑتی ہے، جیب گرم کرنا تو خیر ضمنی سی بات ہے وہ توا ٓپ سب جانتے ہی ہیں۔۔۔

کورونا اور اس کی ویکسین پر سوال شکوک و شبہات تو اول روز سے ہی جاری ہیں مگر یہ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے کسی ایک سوال کا جواب نہیں سکے، ایسا نہیں کہ یہ سوالات صرف پاکستان میں اٹھائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا نامی وبا اور اس کے مخصوص ایجنڈے کے تحت معیشت تباہ کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے، کورونا اگر تو ایک وبا ہے تو وبا کے سدِ باب کے لیے علمائے کرام کو کیوں آگاہی پروگرام میں استعمال نہیں کیا گیا، پھر یہ کہ یہ وبا ایک مخصوص فرقے کے لیے کیوں تباہ کن نہیں ہے۔۔۔ ہر دوسرے شہری کے لب پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریتی مذہبی عقیدرت رکھنے والوں اور ان کے مذہبی تہواروں پر کورونا کی اچانک لہر آجاتی ہے مگر جیسے ہی مؤخر الذکر مذہبی عقیدہ رکھنے والوں کے تہوار آتے ہیں اچانک لاک ڈاؤن ختم کردیا جاتا ہے اور کورونا نامی مہلک وبا اپنا مال اسباب سمیٹ کر رخصت ہوجاتی ہے، ریاست یا صوبے پر حکمران طبقے کو اس دوہرے رویے پر وضاحت دینا ضروری ہے، وگرنہ یہ سلسلہ یوں ہی جارہی رہے گا اور کورونا سے بچنے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہی رہے گا، سب سے معاشی گڑھ کراچی پر تیس سال سے محرومی کا عفریت قابض ہے، کبھی ہڑتالیں کبھی قتل و غارت گری کے نام پر نچوڑا گیا، اب رہی سہی کسر کورونا کی وبا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر پوری کی جارہی ہے، مراد علیشاہ کسی دن اچانک خوابِ گرانی سے جاگتے ہیں اور لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیتے ہیں،پیشگی کوئی حکمت عملی ہوتی ہی نہیں، سندھ سرکار نے نہ تو خاطر خواہ ویکسینیشن سینٹرز بنائے اور نہ ہی عملہ متعین کیا، عوام دشمن فیصلے کرتے ہوئے سندھ سرکا ر نے ایک لمحے کو نہ سوچا کہ وفاق کے تحت قائم ویکسینیشن سینٹر پر اچانک عوام الناس دھاوا بول دیں گے تو عملے کے اعتبارعددی ونفری اکثریت کم پڑ جائے گی، اور وہی ہوا کہ سب سے بڑے ویکسینیشن کے مرکز ایکسپو سینٹر میں چھ چھ گھنٹے قطاروں کی کھڑے گرمی کے مارے بھوکے پیاسے عوام ٹوٹ پر پڑتے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عملہ نے ویکسینیشن کا عمل روکا دیا، میڈیا میں خبریں آنے پر سندھ سرکار نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کی اور لاک ڈاؤن میں نام نہاد نرمی کا اعلان کردیا، بہر کیف پولیس کی کمائی کا سلسلہ نہ رک سکا اور کھانے پینے کے مراکز کو استثنا ہونے کے باوجود جبراً بند کیا جاتا رہا،۔۔۔۔ نو روز کے غیر اعلانیہ کرفیو کی صورتحال نے صرف کراچی کو ۴۵۰ ارب کا نقصان پہنچایا، عام دیہاڑی دار طبقہ اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے نقصانات کا تو تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔۔ کورونا کے خلاف ایکشن تو سندھ حکومت نے کیا لینا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔۔ یہ تو رہی صرف کورونا کی باتیں جو دیگ کے ایک چاول سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق ۱۶ کروڑ روپے مالیت کی گندم ذخیرہ کرنےکا محض کرایہ ایک ارب بتیس کروڑ روپے ہے۔۔ نچلی سطح پر دیکھا جائے تو بلدیہ نے اپنے نائب قاصد کو دفتری کام کے لیے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے مالیت کی سائیکل دلا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے یاد رہے یہ عام سی سائیکل صوبے بھر کی کسی بھی دکان سے نو ہزار روپے میں باآسانی مل جاتی ہے۔۔۔۔

سندھ سرکار جس کا حالیہ مسلسل حکومت کا دورانیہ تیرہ سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے کی کارکردگی دیکھی جائے اور معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو سندھ پر مطلقا کتوں کا راج ہے آئے دن آوارہ کتے بچوں اور بڑوں کو کاٹ کھاتے ہیں کسی ہسپتال میں سگ گزیدگی سے بچاؤ کے انجیکشن موجود نہیں، نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں مگر وہی بات کہ کتے نے مفت کاٹا اور ڈاکٹر پیسے لے کر کاٹے گا، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پینےکا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے، عیدِ قرباں کے جانوروں کی آلائشیں تا حال جابجا موجو د ہیں تعفن انسانی دماغوں کر مزاج پوچھتا پھرتا ہے،۔۔۔اٹھارہویں ترمیم ( جس کا مقصد اختیارات کو صوبوں کے حوالے کرکے وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم تھا )کی باڑ قائم کرنے کے بعد صوبے کے عوام کے جان و مال کی حفاظت، صحت صفائی ستھرائی، کاروبار کے لیے موافق ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صرف نعرے لگانے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ سندھ سرکار نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے ووٹرز سے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی اور وفاق میں قائم حکومت کے نمائندوں کو ووٹ دے کر ایوان میں پہنچایا، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لے کر بارش کے بعد ہونے والی سیلابی صورتحال کسی شعبہ میں بھی سندھ حکومت کا حصہ صفر ہے، وفاق نے انسانی ہمددری اور اپنے ووٹروں کی لاج رکھنے کے لیے وفاقی صوابدیدی فنڈز کا اجرا کیا جس سے دہائیوں سے نظر انداز تباہ حال شہرمیں آٹے میں نمک برابر ہی کام ہوسکا ہے، قارئینِ کرام کسی بھی ملک کسی بھی ریاست کسی بھی حکومت نے جب جب کوئی قانون بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا اس کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے، جبکہ سندھ میں مقتدر نمائندے جمعرات بھری مراد کے نعرے لگاتے خیر و عافیت سے قانون کوعوام کی زندگیاں اجیرن کرنے کے استعمال کرتےہیں،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کو اس بات کے قطعا غرض نہیں ہے کہ کوئی اٹھارہوئیں انیسویں یا بیسویں ترمیم کی ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق کے سروں پر لٹک رہی ہے، عوام حالیہ حکومتی دورانیہ کا ستر فیصد عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کی طرح جھیل چکی ہے اور وفاق سے متقاضی ہے کہ سندھ کے عوام کو نامرادی کے عفریت سے بچایا جائے۔۔۔ الخ