fbpx

جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے

برطانوی خاتون کا کہنا ہے کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی-

باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا ہےوہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں


سارہ نے بتایا کہ اگر جانور نہ ملے تو وہ پودے اور جنگلی پھل کھاکرگزارہ کرتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بعض پھل اور جڑی بوٹیاں بیمار بھی کرسکتی ہیں اسی لیے وہ ان کی مکمل معلومات پر زور دیتی ہیں پھر کھانسی اور بخار یا دردسر میں بھی وہ جڑی بوتیوں سے خود اپنا علاج کرتی ہیں مثلاً جنگلی چیری کے درخت سے حاصل ہونے والی گوند سے وہ گلے کی خراش اور درد سر کا علاج کررہی ہیں اگر کبھی کو ہرن کی لاش مل جائے تو وہ اس کی کھال سے اپنے جسم کو ڈھانپتی ہیں جانوروں کی ہڈیوں کو وہ مختلف اوزار اور ہتھیاروں میں ڈھالتی ہیں

سارہ ڈے کا کہنا ہے کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی اگرچہ ان کا گھرشہر میں ہے اور وہ اسکول میں پڑھاتی ہیں لیکن زیادہ تر جنگل میں ہی رہتی ہیں۔

دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں