جنوبی کوریا میں کرونا سے 141 صحتیاب افراد کے ٹیسٹ دنیا کے لیے تشویش پیدا کرگئے

جنوبی کوریا میں کرونا سے 141 صحتیاب افراد کے ٹیسٹ دنیا کے لیے تشویش پیدا کرگئے

دنیا میں‌جہاں کرونا کی وبا انسانوں‌کو نقصان پہنچا رہی ہے وہا اس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں‌کی تعداد بھی کافی ہے لیکن زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان صحت یاب ہونے والے افرادکے پھر سے ٹیسٹ پوزیٹو آئے ہیں . امریکی ادارے سی این این کے مطابق جنوبی کوریا میں 141 مریض کرونا کی مرض سے صحتیاب ہو چکے ہیںِ‌ لکن جب ان کا ٹیسٹ کیا گیا تو وہ پوزیٹو آیا .
واضح‌رہے کہ مریکہ میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید چوبیس سو بیاسی افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور مجموعی طور پر اٹھائیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں کورونا کے چھ لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریض ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں دو لاکھ سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور گیارہ ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسپین میں کورونا کے باعث مزید چار سو ترپن افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ساڑھے اٹھارہ ہزار سے بڑھ گئی ہے اور ایک لاکھ ستتر ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

اٹلی میں کورونا مزید پانچ سو اٹھہتر جانیں نگل گیا اور ساڑھے اکیس ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ فرانس میں ایک ہی دن میں چودہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرانس میں مجموعی ہلاکتیں سترہ ہزار سے زائد ہیں۔ جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے سبب ستانوے افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا سے مزید سات سو اکسٹھ افراد چل بسے اور اموات کی تعداد تیرہ ہزار کے قریب ہو گئی ہے۔برطانیہ میں ایک لاکھ کے قریب کیسز ہیں۔ بیلجیم میں چوالیس سو اور نیدر لیںڈز میں اکتیس سو سے زائد افراد کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں۔

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

بھارتی حکومت نے 14 اپریل کو لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے اسے تین مئی تک بڑھا دیا تھا تاہم اب حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے متعدد کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.