fbpx

صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط
صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی،لارجر بینچ میں سینئر ججوں کو شامل نہیں کیا گیابینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے،8ویں اور 13ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا،جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے،یہ خط لکھنے سے پہلے 2بار سوچا ،سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظربھی آئے، کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی بر انصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہوں، ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار تعینات کیا گیا عام تاثرہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے

قبل ازیں سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

 

سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ