جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک اور ریفرنس بھیج دیا گیا

سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک اور ریفرنس بھیج دیا دیا گیا ۔ یہ ریفرنس شہزاد وحید ایڈووکیٹ‌ کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں‌ پہلا ریفرنس صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بھیجا گیا اور اس حوالہ سے وکلاء برادری بھی تقسیم نظر آتی ہے. وکلاء کے ایک دھڑے نے اس حوالہ سے 14 جون کو ہڑتال کی کال دی تاہم بعض‌ دوسرے وکلاء نے اس کی مخالفت کی اور صاف طور پر کہا ہے کہ وہ ہڑتال میں حصہ نہیں‌ لیں گے اگر کسی جج نے غلطی کی ہے تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے.

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف پہلے ریفرنس کی بحث ابھی جاری تھی کہ ان کے خلاف دوسرا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا ہے. دوسرے بھیجے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدر مملکت کو لکھے گئے خطوط لیک ہونے کی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ بادی النظر میں یہ مس کنڈکٹ ہے. معزز جج کوڈ آف کنڈکٹ کے مختلف آرٹیکلز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صدر پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوایا تھا جبکہ اس ریفرنس کے کچھ حصے میڈیا پر نشر ہوئے تھے جس پر معزز جج نے صدر پاکستان کو خطوط لکھے تھے۔ جسٹس فائز عیسیٰ‌کے خلاف ریفرنس کے مسئلہ پر وکلاء برادری واضح طور پر منقسم نظر آتی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.