ورلڈ ہیڈر ایڈ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان کے انگلینڈ‌ میں‌ بیوی بچوں سے متعلق کیا بات کی کہ حکومت پریشان ہو گئی

سپریم کورٹ‌ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومت کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کئے جانے کے بعد صدر مملکت عارف علوی سے سوال کیا ہے کہ کیاجس وزیر اعظم نے آپ کو میرے ریفرنس دائر کرنے کے لئے کہا انہوں نے اپنے گوشواروں میں انگلینڈ میں موجود اپنے بیٹوں اور بیویوں وغیرہ کی پراپرٹیز ظاہر کی ہیں؟،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ میرے والد قاضی محمد عیسی نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر جدوجہد کی اور یہ آزاد خطہ حاصل کیا۔ عدلیہ کو دباؤ میں‌لانے کیلئے اختیار کئے گئے ہتھکنڈے کسی طور کامیاب نہیں‌ ہوں‌گے اور میں قائداعظم کے نظریات کو کبھی نقصان پہنچنے نہیں دوں گا۔ انہوں نے صدر ڈاکٹر عارف علوی سے درخواست کی کہ آپ وزیر اعظم عمران خان سے پوچھیں‌کہ کیا انہوں نے اپنی بیویوں اور بچوں کی جائیدادیں اور اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ حکومت نے یہ جو کچھ کیا ہے منصفانہ ٹرائل کے حق کے خلاف ہے۔اگر حکومتی اراکین سمجھتے ہیں کہ مجھ پر دباؤ ڈال کر حلف کی خلاف ورزی پر مجبور کریں گے تو یہ لوگ یہ خیال ذہنوں سے نکال دیں۔ میں‌ کسی قسم کا دباؤ قبول کئے بغیر بلا خوف و خطر آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھوں گا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ‌نے صدر مملکت کو دوسرا خط لکھ کر اپنے خلاف کی جانےو الی کردار کشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے. ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے خلاف جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے ابھی تک اس کی کاپی نہیں‌دی گئی، مجھے جوڈیشل کونسل کی جانب سے بھی کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا لیکن میرے خلاف ایک منظم تحریک شروع کر دی گئی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے. انہوں نے کہاکہ میرے خلاف ریفرنس میں جن جائیدادوں‌کا ذکر کیا گیا ہے ان سے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ میں‌ نے کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے. مجھے بدنام کرنے کی کوششوں‌ پر میں اور میرے اہل خانہ سخت کرب کی کیفیت میں‌ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.