fbpx

جسٹس عمرعطاء بندیال کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

وزارت قانون نے جسٹس عمر عطاء بندیال کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس عمر عطاء بندیال 2 فروری کو عہدے کا چارج سنبھالیں گے، وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں-

یاد رہے کہ چیف جسٹس گلزاراحمد یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے جسٹس گلزار احمد نے 21 دسمبر 2019ء کو جسٹس ثاقب نثار کی جگہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تھا-

جسٹس عمرعطا بندیال کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی سمری تیار

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیل کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال 17 ستمبر 1958ء کو لاہور میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی اور پشاور میں حاصل کرنے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے گریجویشن کیا کیمبرج یونیورسٹی کے لنکن اِن سے بیرسٹر کی سند حاصل کی۔ 1983ء میں لاہور ہائی کورٹ اور کچھ برسوں بعد سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے درج ہوئے۔

عمر عطا بندیال پاکستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے:صدر نے منظوری دیدی

جسٹس عمر عطاء بندیال نے 4 دسمبر 2004ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اُٹھایا لیکن نومبر 2007ء میں انہوں نے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا بعدازاں وہ دو سال کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے جون 2014ء میں ان کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔ اپنے اعلیٰ عدالتوں میں منصب قاضی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جسٹس بندیال نے اہم مقدمات کے فیصلے دیئے-

بریکنگ،150 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل

سپریم کورٹ کے ججز کی تکمیل مدت ملازمت 65 اورہائی کورٹ کےججوں کی عمر کی حد 62 سال ہےایسا ایک سے زائد بار ہوا ہے کہ ہائی کورٹ میں جونیئر کوئی جج عدالت عظمیٰ میں پہنچ کرسینئر ہو جاتا ہےجسٹس گلزاراحمد نے 21 دسمبر 2019ء کوجسٹس ثاقب نثار کی جگہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالاتھاجسٹس بندیال 18 ستمبر 2023ء اپنے ریٹائرمنٹ تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس رہیں گے اس دوران پاکستان میں عام انتخابات بھی ہوں گے۔

پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

جسٹس بندیال کے منصب کی میعاد مکمل ہونےپرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کی جگہ لیں گے ان کی چیف جسٹس کے لئے میعاد 25 اکتوبر 2024ء تک ہوگی اس دوران انہیں صدر عارف علوی کی جانب سے اپنے خلاف دائر ریفرنس کا بھی سامناکرناہوگااس دوران جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم خان چیف جسٹس بنے بغیر ہی عدالت عظمیٰ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

اگرنون لیگ شریف فیملی سے خودکو علیحدہ ہ کرتی ہے تو یہ مثبت پیشرفت ہوگی ، فواد چودھری