کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے ٹو سر کرنے والے کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے

علی سدپارہ کے بیٹے نے صوبائی وزیر سیاحت گلگت بلتستان کے ہمراہ موت کی تصدیق کی ہے، علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کے بعد گلگت کے صوبائی وزیر سیاحت کا کہنا تھا کہ لاپتہ کوہ پیما دنیا میں نہیں رہے، ‏حکومت، پاک فوج، لواحقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں، محمد علی سدپارہ اور بیٹے کو سول اعزازات سے نوازا جائے گا،وزیر سیاحت جی بی کا مزید کہنا تھا کہ وفاق کو اسکردو ائیرپورٹ علی سدپارہ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویزدی گئی ہے

اس موقع پر علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کا مشکور ہوں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کیےگئے۔ علی سدپارہ ہمیشہ انتہائی بلندی پر رہنا چاہتے تھے۔ کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیاہے۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی میں مصروف تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔

کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور ان کا خواب پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور عسکری ایوی ایشن کے بہادر پائلٹس کا بھی مشکور ہوں۔

واضح رہےکہ پاکستان کے ہیرو محمد علی سد پارہ کو دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے 8 کو سر کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.