fbpx

کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے،وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی، وفاقی وزیر برس پڑے

کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے،وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی، وفاقی وزیر برس پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

رکن کمیٹی ثنا اللہ خان مستی خیل نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کوبھی ہم نےکمرشل بنا دیا ہے ان کو کسان کا مددگار بنائیں،فہمیدہ مرزا نے کہا کہ سب کو پتا ہے زرعی ترقیاتی بینک کے قرضوں کا 90 فیصد کہاں جاتا ہے،زرعی سیکٹر میں آن گراؤنڈ کچھ نظر نہیں آرہا، وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کررہے ہیں،اپنے زمیندارکو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں،52 بلین کاجو پیکج اعلان ہواتھا کم ازکم اس کو یقینی بنایا جائے وہ ریلیز ہو،حکومت نے انڈسٹری،سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہیں دیا، آج کل کا جو موسم ہے وہ گندم کی فصل کو متاثر کرتا ہے، گندم کی پیداوار ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے،کابینہ میں بھی میں نے پوچھا تھا کہ گندم کہاں کہاں سے امپورٹ کررہے ہیں، امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑرہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں،گزشتہ سال ڈی اے پی 28 سو روپے تھی اس سال پانچ ہزار ہے،خدا کا خوف کریں،میں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے،وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی

فاروق اعظم ملک نے کہا کہ محکمہ زراعت کے دفترجائیں تو ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اسمبلی کل ختم ہونے والی ہے،محکمہ زراعت کے افسران کوکہیں، کام کریں نہ کریں کم ازکم ہمارا فون اٹھا لیا کریں ،حماد اظہر نے کہا کہ سندھ نے 2 ہزارسپورٹ پرائس رکھی،مگر انھوں نے ایک ملین ٹن پروکیور کرنی ہوتی ہے،مفخر امام نے کہا کہ ہندوستان پر27 سے 34 فصلوں پرکم سے کم سپورٹ پرائس ہے،پاکستان میں صرف ایک پر ہے،میں نے کہا کہ 4 لاکھ بیلز کپاس خرید لیں،نہیں مانا گیا، یہ ہماری پالیسی میکنگ ہے، وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم زراعت کوبہت اہمیت دے رہے ہیں،گندم کی امپورٹڈ پرائس میں شپمنٹ،لوڈنگ اوردیگر اخرجات ہوتے ہیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.