fbpx

کابل ایئرپورٹ حملہ،بمبار بھارت میں انجنیئرنگ کا طالب علم نکلا

کابل ایئرپورٹ حملہ،بمبار بھارت میں انجنیئرنگ کا طالب علم نکلا،

نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کو 2017 میں بھارت نے سی آئی اے کے حوالے کیا،عبدالرحمان الوگاری کو افغانستان کی بگرام ہوائی اڈے پر پروان جیل میں رکھا گیا، طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد عبدالرحمان الوگاری کو رہا کر دیا گیا،کابل ائیر پورٹ حملے میں 13 امریکی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے،

نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکش بمبار لوغاری رَچنا یونیورسٹی نیو دہلی کا طالب علم تھا، اس دوران وہ داعش میں رہتے ہوئے کئی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا، امریکی سی آئی اے نے اس کی نشاندہی کی تھی

قبل ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش کے ایک جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرنے والا ان کا خود کش بمبار بھارت میں تعلیم حاصل کرچکا ہے اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں بھی رہا ہے۔

داعش کے اس دعوے پر بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ خودکش بمبار عبدالرحمان اللغوری نے 2016 میں ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

بھارتی کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک افسر نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ عبدالرحمان کالج میں داخلہ لینے کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے بجائے دارالحکومت دہلی کے چکر لگاتا رہا اور کئی مقامات کی تصاویر بھی بنائیں۔ مشکوک اور خفیہ سرگرمیوں کے باعث اسے حراست میں لیا گیا تھا۔

بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے عبدالرحمان سے کوئی خاطر خواہ شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث اسے افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا جہاں دوران تفتیش ملزم نے داعش کی کئی تربیت گاہوں کے بارے میں بتایا۔

دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا جانتی بھی ہےکہ بھارت عالمی دہشت گردی میں مصروف ہے اورپاکستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے پھربھارت کے معاملے میں دہرا معیار کیوں؟

ان مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرعالمی برادری نے بھارتی مکاری کا نوٹس نہ لیا توپھردنیا میں دہشت گردی کوپروموٹ کرنے کا ذمہ دار بھی عالمی برادری ہوگی

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!