fbpx

کل چھٹی پھر بھی بیمار قیدی کی درخواست سنیں گے،عدالت، اڈیالہ جیل میں کتنے قیدی ہیں؟ اہم خبر

کل چھٹی پھر بھی بیمار قیدی کی درخواست سنیں گے،عدالت، اڈیالہ جیل میں کتنے قیدی ہیں؟ اہم خبر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزائے موت کے قیدی خادم حسین کی طبی سہولتوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی،

اڈیالہ جیل حکام نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ اڈیالہ جیل 1500 قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی جبکہ اڈیالہ جیل میں اس وقت 4800 قیدی ہیں

وزارت انسانی حقوق کی جانب سے عدالت میں کسی کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود اڈیالہ کامہمان بنا تھا ،وہاں کےحالات کا پتہ ہے ،جیل حکام کو اپنے اختیارات کا علم ہی نہیں ،

عدالت نے وزارت انسانی حقوق اوروزارت صحت کودوبارہ نوٹس جاری کر دیا، قیدی خادم حسین کی درخواست کل چھٹی کےروز بھی سننے کا فیصلہ کیا گیا،عدالت نے وزارت صحت اورانسانی حقوق سے کل تک جواب طلب کر لیا

نوازشریف 2 دن میں چلے گئے،ایک قیدی 6 سال سے واپس نہیں لا سکے، سیکرٹری داخلہ،خارجہ کو جیل بھیجوں گا، عدالت

اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کوخط لکھا تھا .چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں قیدی نے کہا کہ بینائی کا مسئلہ ہے،آنکھوں کےعلاج کی سہولت دی جائے،- عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کررکھا ہے ،عدالت نے پورے ملک سے بیمار قیدیوں کاریکارڈ طلب کرلیا

نواز کے لندن جانے کے بعد دیگرقیدیوں کی بھی سن لی گئی، وزیراعظم کا بڑا حکم،

یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کےغرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں 10 ہزار بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایت کی تھی، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں 10 ہزارسے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔