کلبھوشن یادیو کیس،اٹارنی جنرل کی استدعا عدالت نے مان لی

0
35
kalbhoshan

کلبھوشن یادیو کیس،اٹارنی جنرل کی استدعا عدالت نے مان لی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی
گزشتہ سماعت پر بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل شاہ نواز کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا

کلبھوشن کیس میں بھارت کی جانب سے وکیل پیش نہیں ہو رہا، بھارت کو اسلام آباد ہائیکورٹ مسلسل موقع دے رہی ہے ، آج اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے سماعت ملتوی کی

وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

پاکستانی عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی، بھارت

گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

Leave a reply