قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ اور 200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم نے اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا-

باغی ٹی وی : میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔

ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے، اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔

مصنف ایم اسلم دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،
پوچھا ، کیا ؟
قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،
میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاں
اور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !

شلوار قمیض کے اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھنا ایم اسلم کا شوق تھا ،ناول نگار اور مصنف ایم اسلم کی یادگار تصویر

ایک بار کسی کے سوال پر ایم اسلم نے بتایا کہ انہیں ناول لکھنے کے لئے زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتے ہیں اور ناول کا پلاٹ ان کے ذہن میں آجا تا ہے۔

عظیم مصنف ایم اسلم کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !

جن میں ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ، درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔

معروف ناول نگار فاروق خالد بتاتے ہیں ایم اسلم، مشہور مصوّر اُستاد اللہ بخش کے دوست تھے اور ان سے ملنے اکثر پُرانا مسلم ٹاون جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی ناولوں کے سرورق بھی استاد نے ڈیزائن کیے۔ مَیں اُستاد اللہ بخش کا باقاعدہ شاگرد تھا۔ ان پر مَیں نے بڑی محبت سے ایک خاکہ لکھا ہے جو ” سویرا” لاہور کی تازہ اشاعت میں شامل ہے اور اس میں میاں ایم اسلم کا ذکر بھی ہے۔

میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔

محترم منیب اقبال کے مطابق علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔

ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور ایک یادگار واقعہ بتاتے ہیں کہ1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔

ارشد نعیم صاحب نے یاد دلایا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے ایم اسلم کا شاندار خاکہ لکھا تھاجس سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کے راز کا بھی پتہ چلتا ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.