fbpx

سکھوں کو”دہشت گرد "کہنے پرنئی دہلی کی اسمبلی نےکنگنا کوطلب کرلیا

نئی دہلی: بھارتی سکھوں سے متعلق متنازع بیان دینے پر نئی دہلی کی اسمبلی نے کنگنا رناوت کو طلب کرلیا ہے۔

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ کنگنا رناوت بالی ووڈ نے چند روز قبل سکھ برادری سے متعلق ایک بیان دیا تھا جس پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے، کنگنا کے بیان پر نئی دہلی کی اسمبلی نے انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی اسمبلی نے کنگنا رناوت کے سکھوں سے متعلق بیان پر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی عام آدمی پارٹی کے رہنما کررہے ہیں، کنگنا کو کمیٹی کے سامنے 6 دسمبر کو طلب کرکے بیان سے متعلق وضاحت مانگی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کسانوں سے متعلق متنازع قوانین واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد کنگنا رناوت نے کسانوں کے احتجاج کو سکھ برادری سے جوڑتے ہوئے انہیں خالصتان کا دہشت گرد قرار دیا تھا جس پر دہلی کے سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی نے کنگنا رناوت کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے یہ شکایت مندر مارگ پولیس اسٹیشن کے سائبر سیل میں درج کروائی گئی تھی-

کنگنا نفرت کی فیکٹری ،اسےجیل یا دماغی اسپتال بھجوایا جائے بھارتی سکھ…

سکھ کمیونٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کنگنا رناوت نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ میں جان بوجھ کر کسانوں کے احتجاج کو ’’خالصتانی تحریک‘‘ کے طور پر پیش کیا اس کے علاوہ سکھ کمیونٹی نے الزام لگایا تھا کہ اداکارہ نے سکھ برادری کو ’’خالصتانی دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ کنگنا نے سکھ برادری کے خلاف توہین آمیز اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی۔

منجندر سنگھ سرسا نے بیان میں کہا تھا کہ اداکارہ کنگنا رناوت کا بیان بہت ہی سستی ذہنیت کو اجاگر کرتا ہے اور اداکارہ کی جانب سے یہ کہنا تھا کہ خالصتانی دہشت گردوں کی وجہ سے فارم کے تینوں قوانین کو منسوخ کیا گیا یہ کسانوں کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے کنگنا رناوت نفرت کی فیکٹری ہے۔

ہم حکومت سے کنگنا کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے نفرت انگیز بیان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اس کے علاوہ اس کی سیکیورٹی اور پدماشری ایوارڈ کو بھی فوراً واپس لیا جائے۔ اور اسے یا تو جیل یا پھر دماغی اسپتال میں ڈالنا چاہئے۔

اے آر رحمان کی بیٹی کی پہلی باحجاب پرفارمنس ،سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لئے

بیان میں کہا گیا تھا کہ کنگنا رناوت کی پوسٹ جان بوجھ کر تیار کی گئی ہے اور سکھ برادری کے جذبات کو مجروح کرنے کے مجرمانہ ارادے سے شیئر کی گئی ہے۔ لہذا میں آپ کے دفتر سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں اور اس کی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب شرومنی اکال دل کے رہنما اور دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا نے اداکارہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کنگنا کو یا تو جیل میں ڈالا جانا چاہئے یا پھر دماغی اسپتال میں بھیجنا چاہئے۔