fbpx

کنگنا نفرت کی فیکٹری ،اسےجیل یا دماغی اسپتال بھجوایا جائے بھارتی سکھ کمیونٹی کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارت کی سکھ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اداکارہ کنگنا رناوت نفرت کی فیکٹری ہیں ان کو جیل یا پھر دماغی امراض کے اسپتال بھجوایا جائے-

باغی ٹی وی : یوں تو کنگنا رناوت کا بنیادی کام اداکاری کرنا ہے لیکن اکثر وہ اداکاری سے زیادہ دیگر معاملات پر اپنی رائے دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اب چاہے وہ حکومتی معاملات ہوں یا پاک بھارت معاملات۔ کنگنا ہر جگہ بیان دینا ضروری سمجھتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر تنقید کا نشانہ بھی بنتی ہیں تاہم اب بھی بھارتی کسانوں کے خلاف دیئے گئے بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں-

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی نے سکھ برادری کے خلاف انسٹا گرام پر توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے لیے ہفتے کے روز اداکارہ کنگنا رناوت کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے یہ شکایت مندر مارگ پولیس اسٹیشن کے سائبر سیل میں درج کروائی گئی ہے۔

سکھ کمیونٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کنگنا رناوت نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ میں جان بوجھ کر کسانوں کے احتجاج کو ’’خالصتانی تحریک‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے علاوہ سکھ کمیونٹی نے الزام لگایا ہے کہ اداکارہ نے سکھ برادری کو ’’خالصتانی دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کنگنا نے سکھ برادری کے خلاف توہین آمیز اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کنگنا رناوت کی پوسٹ جان بوجھ کر تیار کی گئی ہے اور سکھ برادری کے جذبات کو مجروح کرنے کے مجرمانہ ارادے سے شیئر کی گئی ہے۔ لہذا میں آپ کے دفتر سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں اور اس کی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب شرومنی اکال دل کے رہنما اور دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا نے اداکارہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کنگنا کو یا تو جیل میں ڈالا جانا چاہئے یا پھر دماغی اسپتال میں بھیجنا چاہئے۔

منجندر سنگھ سرسا نے بیان میں کہا کہ اداکارہ کنگنا رناوت کا بیان بہت ہی سستی ذہنیت کو اجاگر کرتا ہے اور اداکارہ کی جانب سے یہ کہنا کہ خالصتانی دہشت گردوں کی وجہ سے فارم کے تینوں قوانین کو منسوخ کیا گیا یہ کسانوں کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے کنگنا رناوت نفرت کی فیکٹری ہے۔

ہم حکومت سے کنگنا کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے نفرت انگیز بیان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی سیکیورٹی اور پدماشری ایوارڈ کو بھی فوراً واپس لیا جائے۔ اور اسے یا تو جیل یا پھر دماغی اسپتال میں ڈالنا چاہئے۔

واضح رہے کہ کنگنا رناوت نے مودی حکومت کی جانب سے متنازع زرعی قوانین واپس لینے کے فیصلے کے بعد انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ خالصتانی دہشت گرد آج حکومت کا بازو مروڑ رہے ہیں۔ لیکن اس خاتون کو نہ بھولیے، اکلوتی خاتون وزیراعظم جس نے ان کو کچل دیا تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے کتنی تکلیفیں اٹھائیں لیکن اس نے انہیں مچھروں کی طرح مسل دیا تھا لیکن دیش کے ٹکڑے نہیں ہونے دئیے۔ اس کی موت کے دہائیوں بعد آج بھی یہ اس کے نام سے کانپتے ہیں۔

اس سے قبل اداکارہ نے مودی حکومت کے متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا تھا کنگنانے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک سوشل میڈیا صارف کی پوسٹ شیئر کی جس میں مودی حکومت کے متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا گیا تھا ’’ ثابت ہوا، اسٹریٹ پاور واحد طاقت ہے جو اہمیت رکھتی ہے‘‘۔

کنگنا نے اس صارف کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے متنازع زرعی قوانین سے متعلق حکومتی فیصلے کو افسوسناک، شرمناک اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا اور کہا پارلیمنٹ میں منتخب حکومت نہیں بلکہ سڑکوں پر لوگ قوانین بنانا شروع کردیں تو یہ بھی جہادی قوم ہے۔ ان تمام لوگوں کو مبارک جو ایسا چاہتے تھے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ ایک سال سے ملک میں جاری کسانوں کے احتجاج کے آگے سر جھکاتے ہوئے زرعی اصلاحات کے نام پر منظور متنازع قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہےبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم کسانوں کو ان قوانین پر اعتماد میں لینے میں ناکام رہے جس پر میں عوام سے معافی مانگتا ہوں، ہم نے پوری کوشش کی اور کسانوں کے اعتراضات کو دور کرنے کے لیے بھی تیار تھے تاہم کچھ کسان اس قانون کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ قوانین کی واپسی کے حوالے سے پارلیمنٹ کا آئینی عمل اس ماہ کے آخر تک شروع ہوجائے گا لہذا کسانوں سے درخواست ہے کہ وہ احتجاج ختم کردیں اور اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!