fbpx

کپتان صاب، قوم دیر نہیں کرتی،تحریر: نوید شیخ

مارچ کا مہینہ تو اہم ہے ہی مگر اصل دھما چوکڑی اس فروری کے مہینے سے شروع ہونی ہے ۔ کیونکہ اس مہینے سے ہی لانگ مارچوں ، دھرنوں اور احتجاجوں کا سیزن باقاعدہ شروع ہونے جارہا ہے ۔۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ بارے تو سب ہی جانتے ہیں ۔ مگر اس کھیل میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی بھی شامل ہیں ۔ ۔ ستائیس فروری کو جب پیپلزپارٹی اسلام آباد جانب مارچ کررہی ہوگی تو پی ٹی آئی گھوٹکی سے کراچی کی جانب مارچ کررہی ہو گی ۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف 101 دھرنے پورے پاکستان میں کرنے ہیں ۔ جبکہ 101
ان کا مارچ ہوگا ۔ اور سب سے آخر میں پی ڈی ایم کا 23 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔

۔ حکومت کی کارکردگی ایک طرف ۔ مگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں یا پھر اگلے جنرل الیکشن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ یہ واضح ہے کہ اگر ان کا مقصد واقعی ہی حکومت کو گھر بھیجنا ہوتا تو سب سے پہلے یہ تحریک عدم اعتماد لاتے۔ سپیکر اسمبلی کے خلاف پھر وزیر اعظم کے خلاف ۔ ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بھی اپنی اکثریت سے ہٹاتے ۔

۔ چلیں مان لیں یہ نہ کرنے کا حوصلہ نہیں تھا یا واضح الفاظ میں اجازت نہ تھی ۔ تو کم ازکم احتجاج تو یہ تمام جماعتیں مل کر ۔ پی ڈی ایم یا کسی بھی ایک پلیٹ فارم سے کرسکتی تھیں ۔ یقین جانئے یہ مل کر احتجاج کریں تو حکومت ایک دن بھی ٹھہر نہ سکے ۔ مگر سب کی اپنی اپنی سیاست ہے ۔ اس لیے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عوام کن مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ۔ اس سے اپوزیشن کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ اپوزیشن اس وقت متحد نہیں اسی لیے شیخ رشید بھی چوڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بلاول 27 فروری کو آئیں، دیگر 23 مارچ کو آئیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ دھرنے سے کچھ ہوگا نہ لانگ مارچ سے کچھ ہوگا۔ فضل الرحمان کو سب سے زیادہ تحریک عدم اعتماد کا شوق ہے، اپوزیشن کے چودہ سے پندرہ ارکان اندر سے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ بہرحال شیخ رشید نے یہ کنفرم کردیا ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاستدان ہیں اوریہ بھی اپنے فائدے کے لیے دیگر سے کم نہیں ۔۔ یوں حکومت اور اپوزیشن کا میچ ایک طرف مگر اس بات میں اب کوئی ابہام باقی نہیں بچا ہے کہ حکومت انتظامی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے ۔

۔ کیونکہ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی سے لگتا ہے کہ اس نے 20، 25 سالہ جدوجہد اقتدار میں آنے کے لئے نہیں بلکہ اس ملک کو تباہی سے دوچار کرنے کے لئے کی تھی ۔ یعنی کوئی ایک پالیسی بھی تو ایسی نہیں جس سے قوم کو فائدہ ہوا ہو۔ ابھی حال ہی میں ایک نیا سروے ہوا ہے ۔ جس میں 70 فیصد پاکستانیوں نے ملکی معاشی سمت پر پریشانی کا اظہار کیا ہے اور معاشی سمت کو غلط بھی کہا ہے ۔ جبکہ ملکی سیاسی سمت پر بھی 66فیصد پاکستانیوں نے اعتراض کیا اور اسے غلط قرار دیا۔ اس کے باوجود عمران خان اور ان کے وزیروں کی خواہش ہے کہ اگلے پانچ سال بھی ان کو ہی ملیں گے ۔ حالانکہ ان تین سالوں میں انھوں نے عوام کی اتنی خدمت کردی ہے کہ عوام نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا ہے اور توبہ کرلی ہے کہ آئندہ کبھی کسی تبدیلی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ۔

۔ کیونکہ آج کی ہی خبر ہے کہ پاکستان میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ pakistan bureau of statistics کے مطابق جنوری میں مہنگائی کی شرح 12.96 فیصد رہی ۔ دراصل تبدیلی لانے کے لئے، سچائی اور عوام سے مخلص ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ حکومت تو ہے ہی یوٹرن ایکسپرٹ ۔ جھوٹ بولنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک یہ صرف عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سیڑھی بنا کر دوبارہ اقتدار کی منزل تک پہنچ سکیں۔۔ آج کا نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید نظر آتا ہے۔ بے روز گاری اتنی ہے کہ اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حکومت جانتی تھی کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے، اس لئے انتخابی مہم میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔ اب تو بے روز گاری اتنی ہے کہ دو کروڑ نوکریاں بھی کم پڑ جائیں۔ ناخواندہ سے لے کر خواندہ تک ہر نوجوان روز گار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ عوام کو دھوکے میں رکھو، انہیں دعووں کے سبز باغ دکھا کر وقت گزارو، حکومت میں ہو تو بڑھکیں مارو اور اپوزیشن میں ہو تو انہیں یہ باور کراؤ ہم اقتدار میں ہوتے تو تمہارے لئے آسمان سے تارے توڑ لاتے۔ حالانکہ وہی پرانے چہرے، وہی وعدے، وہی لوٹ مار، وہی عوام کے نام پر بندر بانٹ ان کا کھیل ہے ۔

۔ یوں نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں نے عوام کو جتنا مایوس کیا ہے، اتنا پرانے پاکستان والوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ مہنگائی کو تو رکھیں ایک طرف باقی کس شعبے میں کوئی نیا کام ہوا ہے۔ کرپشن پہلے سے بڑھ گئی ہے، پولیس کے مظالم بڑھ چکے ہیں۔ پیسے دے کر تقرریاں کروانے کی خبریں عام ہیں۔ ۔ سچ یہ ہے کہ پنجاب میں چھوٹے بڑے سرکاری افسروں کی ٹرانسفر پوسٹنگز لاکھوں روپے میں بیچنے کے قصے عام مشہور ہیں اور سب سے زیادہ نام صوبہ کے چیف ایگزیکٹو اور ان کے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے جاتے ہیں۔۔ پھر وفاق کے کچھ وزیروں کے بارے میں بھی عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں کہ کس طرح انہوں نے پچھلے تین سال میں بار بار اربوں کی دہاڑیاں لگائی ہیں۔ ۔ مزے کی بات ہے کہ عمران خان اور گوئیبلز اکیڈمی سے فارغ التحصیل وزیروں کو بھی ساڑھے تین سال تک پتہ نہیں چلا تھا کہ ملک سے کرپشن تو تین سال پہلے ختم ہو چکی تھی۔ ۔ کیونکہ عمران خان کو پتہ نہیں اب کہاں سے یاد آگیا ہے کہ انہوں نے ملک سے کرپشن اپنے اقتدار کے پہلے 90 دن میں ہی ختم کر دی تھی۔ سمجھ نہیں آتی کہ 22 کروڑ پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کی جائے یا اظہار افسوس کیا جائے۔۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اوروفاقی وزرا ء شرمندگی کی بجائے اب بھی مسلسل جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ اس وقت مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن نے عوام سے ان کے چہروں کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔۔ میں نام کسی کا نہیں لینا چاہتا مگر سب جانتے ہیں اس وقت دو وزیر ایسے ہیں جو اگرچہ پیشہ ورانہ معاملات میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے لیکن دن رات جھوٹے اعدادو شمار پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کے چکروں میں ہیں۔۔ حالانکہ دو ہفتے قبل سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے میرے پروگرام کھرا سچ میں بیٹھ کر جو پاکستان کی معیشت کا نقشہ کھینچا تھا۔ وہ انتہائی پریشان کن اور قابلِ فکر تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان تو معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اب ہماری مرضی ہے ہم مانیں یا نہ مانیں۔

۔ پھر ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے تو جو کہا ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہونا چاہیے ۔ کہ پاکستان قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے کہ اب اگر حالات کو درست نہ کیا گیا تو ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ ہمارے معاشی بحران کے تناظر میں ہم سے یہ تقاضہ کر دیا جائے کہ اپنا ایٹمی پروگرام ہمارے حوالے کر دو۔ جو بات قیصر بنگالی نے کی وہ بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ یاد رکھیں اب اسٹیٹ بینک ہمارا نہیں رہا آئی ایم ایف کا ہوگیا ہے ۔ اسی سچ بولنے کی پاداش میں پی ٹی آئی والے اور ان کا سوشل میڈیا ڈاکٹر قیصر بنگالی کا دشمن بن گیا ہے ۔ ۔ میرے خیال سے عمران خان نے تین سال جتنا زور اپوزیشن اور مخالفین کو مجرم ثابت کرنے پر لگایا ہے اگر اس سے آدھا زور بھی معیشت بہتر کرنے پر لگاتے تو آج ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بے شک نہ بہہ رہی ہوتیں لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آج ملکی حالات اتنے بدتر نہیں ہوتے، جتنے ہو چکے ہیں۔ ۔ پورا سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف اپوزیشن کو ہی دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی کچھ اچھا سلوک نہیں کیا، تحریک انصاف نے ہر اس سیاستدان کو جس سے اسے خطرہ ہو سکتا تھا۔ ہر طریقے سے دبانے کی کوشش کی۔ ۔ دراصل عمران خان نے اپنی حکومت کی کامیابی کے لئے پراپیگنڈا فارمولے پر عمل کیا اور اس تواتر سے روانی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بول بول کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری اور ان کے خاندان سمیت ملک کے ڈھائی تین سو خاندانوں نے ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اسے تباہ کر دیا، حکومت نے بڑے دعوے کئے کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، ان خاندانوں کو نشان عبرت بنا دیں گے لیکن اس کے برعکس، دولت تو کیا واپس آنی تھی، الٹا انہیں مجرم ثابت کرنے کے چکر میں ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹایا گیا، ان کا بدترین میڈیا ٹرائل کیا گیا اور جب اندازہ ہو گیا کہ کچھ ثابت نہیں ہو سکے گا تو شہزاد اکبر صاحب سے استعفے لے لیا گیا۔

۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے اربوں روپے واپس لانے کے لئے شہزاد اکبر صاحب نے جو کھربوں روپے خرچ کئے اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ اس سب پر اب عمران خان دھمکیاں دیتے ہیں کہ مجھے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ یوں عمران خان ایک بار پھر بلیک میلنگ پر اترآئے ہیں ۔ ڈرامہ بازی ان کی چیک کریں کہ خود کچھ کرتے نہیں اور الزامات انہیں دیتے ہیں جن کے بل بوتے پر آج یہ اس مقام پر ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف جھوٹ اور پراپیگنڈا پر اپنی حکومت کی بنیاد رکھی جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ عمران خان کو یہ جو خوش فہمی ہے کہ لوگ اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اس میں سے نکل آئیں۔ اقتدار سے الگ ہو کر جس دن عوام میں گئے ان کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنے خطرناک ہیں۔ کیونکہ انڈے ، ٹماٹر اور جوتیاں مارنے میں یہ قوم دیر نہیں کرتی