fbpx

کراچی اور حیدرآباد پاکستان کا حصہ نہیں رہے؟وفاقی ملازمتوں کے کوٹے سے خارج

کراچی اور حیدرآباد پاکستان کا حصہ نہیں رہے؟وفاقی ملازمتوں کے کوٹے سے خارج

کراچی کے سمندر کی وجہ سے قائم کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بعد پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملازمتیں بھی شہری سندھ کیلیے ممنوع، کشمیر فاٹا سمیت پورا ملک حقدار

سندھ حکومت نے کراچی حیدراباد کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعہ بھرتیوں پر نیب تحقیقات دباو ڈال کر رکوا دی،وفاقی اداروں میں بھی جعلی ڈومسائل پر دیہی علاقوں سے بھرتیاں ،وزیراعظم،چیف جسٹس ،آرمی چیف سے نوٹس لینے کی اپیل

کراچی:شہر قائد کی نشستوں کے باعث وفاقی حکومت بنانے والی تحریک انصاف نے کراچی حیدراباد سمیت شہری سندھ پر وفاقی ملازمتوں کے دروازے بند کرکے عملاً یہ اعلان کردیا ہے کہ شہری سندھ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں،اسی لیے انکا ملکی اداروں کی نوکریوں پر حق نہیں رہا،شہری حلقوں کا کہنا ہےشہری سندھ سے زیادتیوں پر پی ٹی آئی اور پی پی کی پالیسیاں یکساں نظر آتی ہیں,وفاقی حکومت کی یہ پالیسی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ملازمت کے اشتہار میں نظر آئی, حالیہ اشتہار میں منیجر (این وی او سی سی/ایس ایل او ٹی)کی نوکری کےلیےدرخواستیں طلب کی گئی ہیں اور وفاقی حکومت کے اسٹبلشمینٹ ڈویژن کے طے کردہ کوٹے کے تحت پنجاب،سندھ(دیہی)خیبر پختونخوا ،سابق فاٹا،بلوچستان،ازاد کشمیر کے لوگوں کے لیےمختص کی گئی ہے اور کراچی حیدر آباد سمیت شہری سندھ کے لیے ممنوع قرار دی گئی ہے.

اس سے قبل کراچی کے سمندر کے باعث قائم ادارےکراچی پورٹ ٹرسٹ کی ملازمتوں کے لیے بھی کراچی حیدرآباد سکھر سمیت شہری سندھ کو خارج کردیا گیا تھا ،شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اس رویہ سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی حیدر آباد سمیت شہری سندھ پاکستان کاحصہ نہیں رہے ہیں،وفاقی اداروں کے کراچی میں واقع دفاتر اور اسلام اباد سیکرٹریٹ میں بھی صرف دیہی سندھ سے بھرتیاں نظر اتی ہیں،کہا جاتا ہے کہ وفاقی اداروں میں بھی سندھ کی طرح کراچی سمیت شہری سندھ کے جعلی ڈومیسائلوں پر دیہی سندھ سے غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں,حیران کن اور افسوس ناک طورپر شہری سندھ کی نمائندگی کی دعوے دار اور وفاقی حکومت میں پی ٹی آئی کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ نے پر اسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور کراچی حیدرآباد، میر پور خاص کے عوام کے ساتھ زیادتیوںپر پارلیمینٹ میں آواز بلند نہیں کر رہی،واضح رہے کہ سندھ حکومت نے غیر قانونی طور پر جعلی ڈومیسائل پر شہری علاقوں میں بھرتیاں کیں اور جب قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کی اور سندھ حکومت سے بھرتیوں کی تفصیلات مانگیں تو پی پی حکومت نے سخت دباؤ ڈال کر نیب کو نوٹس لینے پر مجبور کردیا ،شہری عوام نے وفاقی و سندھ حکومتوں کے رویہ کو متعصبانہ قرار دے کر احتجاج کیا ہے,نیب سے تحقیقات شروع کرنے اور ملازمتوں میں شہری کوٹہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے،عوامی حلقوں نےچیف جسٹس پاکستان آرمی چیف اور وزیر اعظم سے معاملے کا نوٹس لینے اور شہری سندھ کے ساتھ زیادتیاں ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔