*کراچی بلدیہ عظمی کے کرتوتوں کی نئ لسٹ جاری*

*کراچی بلدیہ عظمی کراچی میں ایک مرتبہ پھر لینڈ مافیا نے پنجے گاڑھ لئے ، ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی کیخلاف سنگین کرپشن اور بدعنوانیوں کے واضح شواہد پر لوکل گورنمنٹ بورڈ کی کارروائی کی سفارشات کرپٹ مافیا نے ردی کی نذر کرادیں، کے ایم سی لینڈ میں بدعنوانیوں کا بازار گرم کردیا گیا،ٹرانسفر ،موٹیشن ، لیز اور فارروڈنگ کے کام کرانا شہریوں کیلئے محال ہوگیا، لاکھوں کی کھلے عام رشوت وصولی کے باوجود ادارے کے حکام پراسرار طور پر خاموش ،ایڈ منسٹریٹر کراچی اور سیکریٹری بلدیات کے کردار کو مشکوک قرار دیاجانے لگا ،شہری حلقوں اور کے ایم سی کے سینئر افسران کا اعلی تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس اور کارروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی میں طاقتور لینڈ مافیا کی مبینہ خواہش پر تعینات کئے جانے والے ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی کیخلاف بدعنوانیوں کے واضح شواہد کے باوجود سندھ حکومت بھی کارروائی سے قاصر ہے،ذرائع کاکہنا ہے کہ کے ایم سی محکمہ لینڈ میں کرپشن اور بدعنوانیوں کا بازار گرم کردیا گیا ہے جس کے باعث کراچی کے شہریوں کیلئے اپنے پلاٹ،مکان اور فلیٹس کی ٹرانسفر،موٹیشن،لیز یا فارروڈنگ کے کام منہ مانگے نذرانوں کے بغیر کرانا ناممکن بنادیا گیا ہے،شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ طارق صدیقی کی تعیناتی کے بعد رشوت کے ریٹ میں200 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جو کام پہلے تین لاکھ رشوت لیکر کیا جارہا تھا اس کام کے ایڈ منسٹریٹر اور میونسپل کمشنر کے نام پر10لاکھ روپے رشوت طلب کی جارہی ہے،ذرائع کاکہنا ہے کہ محکمہ لینڈ کے ایم سی میں شہریوں سے لوٹ مار کے واضح شواہد اور شکایات پر لوکل گورنمنٹ بورڈ کی جانب سے ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی کیلئے فوری کارروائی اور تحقیقات کیلئے سفارشات تیار کرکے سیکریٹری بلدیات کو بھیجی گئیں تھیں تاہم مذکورہ کارروائی کی سفارشات کو طاقتور کرپٹ سسٹم نے ردی کی نذر کرادیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی محکمہ لینڈ میں کھلے عام جاری کرپشن اور لوٹ مار پر ایڈ منسٹریٹر کراچی لئیق احمد اور میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پراسرار طور پر خاموشی اختیار کررکھی ہے جبکہ دوسری طرف لوکل گورنمنٹ بورڈ کی جانب سے سیکریٹری بلدیات کو بھیجی گئی سفارشات ردی کی نذر کرائے جانے پر سیکریٹری بلدیات نجم شاہ کا بھی کردار مشکوک ہوکر رہ گیا ہے،شہری حلقوں اور کے ایم سی کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی میں کرپٹ مافیاکی بادشاہت قائم ہوچکی ہے جس کے باعث کے ایم سی کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی ہے،شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی سمیت صدر زون میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈاور دیگر افسران کیخلاف فوری تحقیقات اور کارروائی کی جائے اور لوکل گورنمنٹ بورڈ کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے سیکریٹری بلدیات دیگر بلدیاتی اداروں کے کرپٹ افسران کی طرح کے ایم سی کی کرپٹ مافیا کیخلاف بھی فوری احتساب کا عمل شروع کریں*۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.