کراچی، کانگو وائرس ایک ہی دن میں تین جانیں لے گیا

سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج تین مریض کانگو وائرس کا شکار ہو کر وفات پا گئے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے سول ہسپتال میں زیر علاج مواچھ گوٹھ کا رہائشی شبیر کانگو وائرس سے وفات پا گیا جبکہ انڈس ہسپتال میں زیر علاج سید اسد علی رضوی بھی جان کی بازی ہار گیا۔ اسد علی رضوی کو سترہ اگست کو انڈس ہسپتال علاج کے لیے لایا گیا تھا۔ کانگو کے شبے میں ٹھٹھہ سے لائے گئے ہمل جمو خان بھی جناح ہسپتال میں چل بسا۔ ہمل کو ایک ہفتے سے تیز بخار کی شکایت پر ہسپتال لایا گیا تھا۔

رواں برس کراچی میں کانگو سے بارہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ ستائیس کیسز مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کراچی میں عید قرباں کے بعد غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں جس کے باعث شہر میں وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے تو وہیں شہر میں کانگو کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس جانور کی کھال ،خون اور تھوک میں موجود ٹک جسے چیچٹر بھی کہا جاتا ہے جو انسان کے خون میں شامل ہوکر درد، بخار، متلی اور خون کے بہنے کا سبب بنتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.