fbpx

کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں دھماکے سے باغی ٹی وی کے بیورو آفس کو بھی نقصان پہنچا ہے

دھماکہ غنی چورنگی پر حبیب بینک میں ہوا، باغی ٹی وی کا بیورو آفس بھی غنی چورنگی کے قریب ہے، باغی ٹی وی کے دفتر کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں، دھماکے کی آواز اتنی زوردار تھی کہ باغی ٹی وی آفس تک آواز سنائی دی اور دفتر میں ایسے لگا جیسے زلزلہ آیا ہو

باغی ٹی وی کراچی کے بیورو چیف ضمیر ملک کا کہنا ہے کہ دفتر کے شیشے ٹوٹے ہیں، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ جہاں دھماکہ ہوا تقریبا تین منٹ قبل میں وہاں سے گزرا اور دفتر کی طرف آیا، دفتر پہنچا تو دھماکہ ہو گیا، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد افرا تفری مچ گئی ، جائے وقوعہ کو پولیس و رینجرز نے سیل کیا ہے،، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے تو کچھ ایسے افراد بھی تھے جو لوٹ مار کے چکر میں تھے، کئی افراد نقدی لوٹ کرفرار بھی ہو چکے تھے، تا ہم بعد میں پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لیا

باغی ٹی وی آفس میں کام کرنے والے عملے نے دھماکے کے بعد مختصر بریک کے بعد دوبارہ کام کا آغاز کر دیا ہے

نجی بینک میں ہونیوالے پراسرار دھماکے کے نتیجے میں اب تک 15 اموات ہو چکی ہیں، نجی بینک کے علاوہ دیگر قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شیر شاہ واقعے میں 15افراد جاں بحق اور16زخمی ہوئے ہیں،امدادی کاموں کاسلسلہ جاری ہے ،جلد علاقہ کلیئر ہوجائے گا،سندھ حکومت میں جلد 1122ایمرجنسی سروس شروع کردی جائے گی،دکھ کی اس گھڑی میں عالمگیر خان کےساتھ ہیں، عالمگیر خان کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتا ہوں،2 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے،

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے شیر شاہ میں زیرزمین سیوریج کے بندنالے میں دھماکے سے نجی بینک کی عمارت کی تباہی اور اطراف کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان، 11 افراد کے جاں بحق ہونے پر بے حد دکھ اور افسوس ہے۔متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ واقعے کے محرکات کا پتہ چلایا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں۔ اللہ تعالی مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ آمین

شیرشاہ دھماکے کے واقعے کے حوالے سے کے ایم سی کیماڑی کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نالے میں دھماکا کیمیکل پانی کی گیس بھرنے سے ہوا ہے، اور اس نالے میں سائٹ ایریا کی فیکٹریوں سے کیمیکل والا پانی گرتا ہے حکام کے مطابق 14 فٹ کا یہ نالہ سائٹ ایسوسی ایشن کی حدود میں آتا ہے شیرشاہ نالے کی گزشتہ کئی سال سے صفائی نہیں ہوئی جب کہ نالے کی صفائی سائٹ ایسوسی ایشن ہی کی ذمے داری ہے 20 کلو میٹر طویل اور چودہ فٹ چوڑا یہ نالہ لیاری ندی تک جاتا ہے شیرشاہ نالے پر مکانات اور دیگر تجاوزات بھی قائم ہیں

دوسری جانب وئی سدرن گیس کمپنی کا بیان سامنے آیا ہے سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکنیکل اسٹاف کے مطابق دھماکے کے قریب کوئی گیس پائپ لائن نہیں سوئی سدرن کے مطابق جائے وقوعہ پرگیس کے آثار نہیں، علاقے کی گیس سپلائی نارمل ہے لہٰذا دھماکے کوسوئی سدرن پائپ لائن سےنہیں جوڑا جا سکتا

دھماکے میں زخمی اور مرنے والوں کی لسٹ سامنے آئی ہے،دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں میں میرابت خان، منور خان، ذیشان، محمد یونس،انعام اللہ شاہ،شفیع اللہ ،دلاور خان شامل ہیں ، چار لاشوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، زخمیوں میں غلام مصطفیٰ،محمد ارشد،غلام اکبر، جمیل احمد،عبدالغفار، حماد،ریاض محمود،کشمیر خان، صوبہ خان،عبدالوہاب اور ایک نامعلوم شامل ہے،

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی شیر شاہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ فوری تفتیش کا آغاز کرکے دھماکے کی نوعیت اور سدباب کا تعین کیا جائے، دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کے فی الفور علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے،

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شیر شاہ کے قریب دھماکے کا نوٹس لے لیا وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ انکوائری میں پولیس کا افسر شامل کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو سول اسپتال میں سہولیات کی فراہمی کی ہدایات بھی کیں انتظامیہ کو اسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی بھی ہدایات بھی کیں

ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب نے شیر شاہ دھماکے کا نوٹس و اظہار افسوس کیا ہے ایڈ منسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی دھماکہ میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے گورنر سندھ نے ایڈیشنل آئی جی اور کمشنر کراچی سے واقعےکی رپورٹ طلب کرلی

ڈپٹی کمشنر ویسٹ کا کہنا ہے کہ نالے کےاوپر تعمیرات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے ممکنہ طور پر دھماکہ نالے میں گیس بھرنے سے ہوا ،عمارت کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے تھے،عمارت کے مالکان نے دستاویزات دکھائیں جس کی بناپر عمارت نہیں گرائی گئی

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ عمارت گرنے کا واقعہ افسوسناک ہے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،پہلی ترجیح زخمیوں کواسپتال میں سہولیات فراہمی کا ہے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سعید غنی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں،

ترجمان کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شیر شاہ میں نالے پر قائم نجی بینک کی برانچ میں دھماکہ گیس لیکیج سے ہوا ،واقعے میں دہشتگردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے پولیس جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے واقعے میں 12 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے

رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان نے شیر شاہ کراچی میں دھماکے پر تشویش کا اظہارکیا ہے،اور دھماکے میں متعدد افراد کے جانبحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے،رابطہ کمیٹی کا کہناتھا کہ اللہ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں،ایم کیو ایم پاکستان کے تمام کارکنان جانبحق افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔زخمیوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ملبے میں دبے ہوئے افراد کو ریسکیو کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، دھماکے کی نوعیت جانچنے کے لئے مکمل تحقیقات کی جائیںمیڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے سے متاثرہ بلڈنگ نالے کے اوپر بنائی گئی تھی، تحقیقات کی جائیں کہ نالے کے اوپر بلڈنگ کیسے بنائی گئی،کراچی میں تواتر کے ساتھ بلڈنگ کنٹرول کے اداروں کی نااہلی کی وجہ سے لوگوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے۔ متعلقہ اداروں اور ان میں موجود کالی بھیڑوں سے سختی سے نمٹنے اور سزائیں دینے کی ضرورت ہے

چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ کراچی دھماکہ میں 12 افراد کےانتقال اور درجنوں زخمیوں کا سن کردلی دکھ ہوا،میری تمام ہمدریاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں یہ سانحہ بھی ناجائزتجاوزات اور نالوں پربنی عمارتوں کا شاخسانہ تھا۔شہری اداروں کو چاہیے کہ فوری اورموثراقدمات اٹھائیں تاکہ ایسے مزید سانحات سے بچا جا سکے .

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ نالوں پر عمارتوں کا بننا جائز نہیں ہے، غیرقانونی طور پرہونے والی تعمیرات پر ایکشن لیا جا رہا ہے، کراچی کے نالوں میں قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹایا جائے،نالوں پر ہونے والی تجاوزات ختم کرنے سے پہلے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے نالوں پر تجاوزات بنانا کسی بھی صورت جائز نہیں نالوں پر تعمیرات کرنے والے اصل ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی،

ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ