fbpx

کراچی کی تاریخی غالب لائبریری زبوں حالی کا شکار

کراچی کے پوش علاقے ناظم آباد میں غالب کے صد سالہ یوم وفات پرکم وبیش پچاس سال قبل سن ۹۶ء میںغالب کی یادگار کے طور پر بنائی گئی غالب لائبریری آج اپنی حالت پر نوحہ کناں ہے۔فنڈز کی کمی کے باعث اس لائبریری کا نظم ونسق چلانا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتاجارہاہے ۔ چیئرپرسن شعبہ اردو جامعہ کراچی اورادارہ یادگار غالب کی سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے مطابق ادارے کا یہ امتیاز ہے وہ نہ صرف مرزا غالب پر کی گئی تحقیقات بلکہ دیگر متعلقہ موضوعات پر بھی لکھی گئی تصانیف کو تواتر سے شائع کرتا رہاہے ،لیکن مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث نئی کتابوں کی اشاعت کا یہ سلسلہ بھی مسلسل کچھوے کی چال سے آگے بڑھ رہاہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ادارے کو صرف اکادمی ادبیات سے کچھ گرانٹ ملتی ہے ،جس سے لائبریری میںکام کرنے والے کچھ جزوقتی ملازمین کے مشاہرے اوریو ٹیلٹی بلز کی بہ مشکل ادائیگی ہوپاتی ہے ۔
یہ فنڈز کی کمی اورحکومتی عدم توجہی کا شاخسانہ ہے کہ غالب لائبریری شام کوساڑھے چارسے ساڑھے سات بجے تک محض تین گھنٹوں کے لیے کھلتی ہے۔جبکہ ادارہ یادگار غالب سے وابستہ ارکان کی سالانہ معاونتی فیس آٹے میں نمک کا کام دیتی ہے۔پروفیسر تنظیم الفردوس نے یہ بات زور دے کر کہی کہ غالب لائبریری اورادارہ یادگار غالب کو اس وقت فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے ۔ارباب اختیار اورمتعلقہ اداروں کو چاہیے کہ اس قومی ورثے کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!