fbpx

کراچی کی بجلی آ نہیں رہی بجلی جا رہی ہے . تحریر:عقیل احمد راجپوت

کراچی شہر میں الیکٹریسٹی ایک معمہ بن گئی ہے کراچی والوں کے لئے روز بدلتے ہوئے تجزیات کا تھوڑا سا احوال سننے کی ہمت کریں
پہلے لائٹ گئی تو ایمرجنسی نکالوں کی سدا لگائی جاتی تھی پھر حالات بدلے ایمرجنسی کی جگہ یو پی ایس نے لے لیں لیکن بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے حالات اپڈیٹ ہونے کے بجائے مزید بدصورت ہوتے گئے اس کے بعد کراچی کے گھروں میں جگہ بنائی جنریٹرز نے جو اپنی سریلی آواز سے پورے محلوں کو راگ بھیروی سناتے سناتے بیچ بیچ میں پٹاخوں کی آواز نکال کر شادی اور شب رات کی بھی یاد دلوایا کرتے تھے زندگی چلتی رہی بجلی گھٹتی رہی اور پھر دور آیا ہو پی ایس سے انویسٹرز کا ڈرائی بیٹریوں نے گھر کو رونقیں بخشی اور گھر میں نئی وائرنگ کے زریعے پنکھے اور ایل ای ڈی بلب الگ سے لگوائے گئے جو لائٹ آنے پر جی بلکل درست سنا لائٹ آنے پر بند کئے جاتے ہیں مگر بجلی تقسیم کرنے والے اب بھی پرانے انجنوں کو رپئیر کرکے کراچی کا جوس نکال رہے ہیں اور کراچی ہے کے اس کا جوس ختم ہی نہیں ہوتا تاکہ جوس نکالنے والوں سے اس کی جان چھوٹ جائے اب ہے 2020 فاسٹ ہوتی اس ڈیجیٹل دنیا میں جدت اور تیزی اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب آیا ہے دور سولر انرجی کا جو بلکل فری تو ہے مگر اس کو بنانے کے آلات بہت مہنگے ہونے کی وجہ سے ہر ایک کی دسترس میں نہیں

کراچی کی آبادکاری اور مردم شماری کو دیکھا جائے تو اس میں مرغی اور گائے کے برابر فرق ہے یہ اس لئے لکھا ہے کہ قربانی کا مہینہ ہے آپ تمام مسلمانوں کو عید الضحیٰ اور حج کی پیشگی مبارکباد پیش کرتا ہوں اچھا تو کراچی پر پھر سے آجائیں بہت بڑا ظلم ہے کہ کراچی کی ابادی کو 1.5 کروڑ دکھایا گیا جو کسی بھی طرح 3.0کروڑ سے کم نہیں مگر چلیں کراچی کا ایک عام سا شہری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈا گیا مگر اس شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کو اپنے جنریشن گیپ اور سازوں سامان میں اپگریڈ کرنے کی عقل کیوں نہیں آئی کراچی کی بیشتر سوسائٹی اور فلیٹس کراچی شہر کے بجلی تقسیم کار ادارے کے عین سسٹم میں ہونے کے باوجود سیلف پیمنٹ پر اپنی پی ایم ٹی پرچیز کرکے لگانے پر مجبور ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں آباد علاقوں کا سسٹم ڈالنا بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کے معاہدے میں لکھا گیا ہے مگر پھر بھی اپنی بجلی اس ادارے سے خریدنے پر مجبور ہیں کراچی کے لوگ مرتے ہیں بل بھرتے ہیں مگر پتہ نہیں کونسی آسمانی بجلی گرنے کے انتظار میں ہیں کہ وہ گرے تو یہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اب سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اس بجلی تقسیم کرنے والے ادارے کا نام کیوں نہیں لیا اس تحریر میں تو وجہ یہ ہے کہ یہ اداراہ اپنے ساتھ کراچی لگانے کا مستحق ہی نہیں اس لئے میں کراچی کے شہری ہونے کے ناطے اس کو کراچی کا ادارہ مانتا ہی نہیں یہ ایک بھتہ خوروں کا گروپ ہے جو کراچی سے غیر قانونی بھتہ وصول کررہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی وفاقی اور صوبائی حکومت تیار نہیں ہم کراچی والوں کی نظر اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جیف جسٹس آف پاکستان پر لگیں ہیں شائد ان کو کراچی کی عوام پر مسلط اس بھتہ خوری سے نجات دلانے کی خاطر کوئی اقدام ہوسکے تو ہو ورنہ کراچی والوں کی پانی سیوریج ٹرانسپورٹ روڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اور ضرورت زندگی کی چیزوں کا کس کو خیال ہے جو کراچی میں گرمی میں اس بجلی کی 10سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے نام پر بھتے سے ہوگا