fbpx

کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

اس شہر کراچی کی , لفظ "Regularisation ” سے بالکل نہیں بنتی. مجال ہے جو کچھ بھی ریگولر ہوتا نظر آجائے.
چاہے کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل ہو, یا جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں, تعلیم نہ ہونے ک برابر, صحت و صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں, بجلی کی حصول کے لئے نجی ادارا مسلط, نہ پانی, نہ سڑکیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ. غرض ان بنیادی سہولیات کی "Irregularisation” نے شہریوں میں نفسا نفسی اور اپنے مسائل کا ازخود حل نکالنے کی جدوجہد نے شہریوں کی سوچ کو مفلوج کر کے بس اپنے ارد گرد محدود کر دیا ہے.
نام نہاد لیڈران کے پاس بھی عوام کیلئے تسلیوں کے علاوہ کوئی خاص پھکی نہیں. لہذا عام آدمی جب سارا دن بعد بسوں کے دھکے کھا کر اپنے گھر آتا ہے تو چاہے نسلہ ٹاور ہو یا پھر گجر نالہ کے بے گھر افراد, یا پھر الہ دین پارک کی منہدم عمارت, اسے اگلے دن پھر سے بسوں کے دھکے کھا کر, اپنے چھوٹے سے گھر کے بڑے سے بجلی کے بل کی قسطیں بنوانے کی فکر زیادہ ستاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر کل کسی دوسرے کےگرتے ہوئے گھر کیلۓ آواز اٹھانے چلا گیا تو کہیں اپنے گھر کی بجلی نہ کٹ جاۓ. اور اسی شش و پنج میں وہ گراۓ جانےوالے گھروں کے متاثرین کیلئے افسوس کرتا ہوا نیند کی آغوش میں ہو لیتا ہے.
.
آج نسلہ ٹاور گرنے کو ہے, کل کسی اور کا گھر ہوگا. اور پرسوں شاید ہمارا اپنا, لیکن جب پرسوں ہمارے گھر کی باری آئے گی تو ظاہر ہے ریت وہی رہے گی, مدد کو پکارنے پر بھی وہی تھکے ہارے لوگ بجلی کے بلوں کو قسطوں کی فکر میں تکیے میں منھ چھپا کر سوجائیں گے….
یا جو کوئی اپنا بجلی کا بل بھروا چکا ہوگا وہ کچھ اس طرح کے سوالوں پر غور کرتا نظر آئے گا, مثلاً

نسلہ ٹاور کی رہائشی جنہوں نے اس ملک کے سسٹم پر یقین کرتے ہوئے این او سی شدہ کاغذات والے گھر پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی آخر ان کا کیا قصور ہے؟
وہ عناصر جنہوں نے نسلہ ٹاور کی زمین پر عمارت تعمیر کرنے کی این او سی دی ان سے جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی؟
وہ بلڈر جسے یہ عمارت کھڑی کرنے کی این او سی دی گئی, کیا وہ رہائشیوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس کرسکے گا؟
کیا کبھی کراچی کی عوام اپنے حق کیلئے آواز اٹھا سکے گی؟

اور سوچتے سوچتے اچانک اسے یاد آئے گا کہ گھر میں پانی ختم ہونے کو ہے اور صبح تک پانی کا ٹینکر ہر حال میں منگوانا ہی پڑے گا. لہذا اپنی سابقہ تمام سوچوں کو جھڑک کر وہ اپنے موبائل میں ٹینکر والے کا فون نمبر ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاۓ گا.

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!