fbpx

کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کا بدترین بحران جاری

دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے تعطل سے پھٹنے والی لائنوں کے باعث کراچی میں پانی کا بدترین بحران پیدا ہو گیا۔

کراچی میں گزشتہ 48گھنٹوں سے پا نی کا بدترین بحران پیدا ہوگیا، مختلف علاقوں میں پانی کی فر اہمی مکمل طور معطل ہے جس میں کورنگی ، لا نڈھی، ملیر ، شاہ فیصل کالونی، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ، محمود آباد ، منظورکالونی ، فیڈر ل بی ایریا ، ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، اورنگی ٹاؤن ، بلدیہ ٹاؤن سمیت دیگر شامل ہیں، شہر ی پا نی کی بو ند بو ند کو تر س گئے ہیں۔

شہری واٹر ٹینکر ز خریدکر پا نی حاصل کررہے ہیں، عید الاضٰحی بھی قریب ہے ،شہر یو ں نے جا نور خر ید نا شروع کردیے ان جا نو رو ں کو پا نی کی ضروریا ت کو بمشکل پورا کیاجا رہا ہے ٹینکروں کے ذریعے جانوروں کے لیے پانی لیا جارہا ہے۔

شہر شد ید گر می کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے پا نی کی طلب میں اضافہ ہو گیا، کر اچی کو پہلے ہی 60کر وڑ گیلن پا نی کی کمی کا سامنا ہے ان حالا ت میں صورتحال مز ید خوف ناک ہو گئی ہے پورا شہر اس وقت پا نی کی فر اہمی سے متاثر ہے۔

واٹر بورڈ حکام نے تمام صورتحال کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دے دیا ہے واٹربورڈ حکام کا کہنا ہے کہ دس سے با رہ جو لا ئی کے دوران چار بڑے بجلی کے بر یک ڈاوئنز ہو ئے جس کی وجہ سے3 لا ئنیں پھٹ گئیں.

پو را پا نی کی تر سیلی نظام درہم بر ہم ہو گیا، ان حالا ت میں شہر کو پا نی کی فر اہمی انتہا ئی مشکل ہو گئی ہے۔

واٹر بورڈ حکام نے بتایا کہ شہر میں پا نی کی فر اہمی معمول پر آنے میں مز ید 48 گھنٹے لگ سکتے ہیں جبکہ تر جمان کے الیکٹرک نے واٹر بورڈ کے تمام الزامات کے بے بنیاد قرار دیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ30 ارب روپے کا نا دھندہ ہے لیکن اس کے باوجو د دھا بیجی ، گھا رو پمپنگ اسٹیشن سمیت دیگر تنصیبا ت پر بلا تعطل بجلی فر اہمی کی جا ر ہی ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ہما را عملہ واٹر بورد حکام سے فنی معاونت کے لیے مسلسل رابطے میں رہتا ہے غیر معمولی حالا ت میں عارضی تعطل کی صورت میں واٹر بورڈ کا اپنا بجلی کامتبا دل کا نظام مو جو د ہی نہیں ہے ایک نا دھند کو متواتر بجلی فر اہم کررہے ہیں۔