*شہر قائد میں بڑھتی ھوئی ٹارگٹ کلنگ و اسٹریٹ کرائم کو روکنے میں کراچی پولیس ناکام*

پولیس کا اینٹلی جنس مکمل طور پر ناکام اسپیشل برانچ صرف محکمہ پولیس کی آئی آر نکالنے میں مصروف ہیں۔اسٹریٹ کرائم کی روک تھام میں ماضی میں بالباس سادہ اھلکاروں نے زبردست کاروائیاں کیں تھیں۔کومبنگ آپریشن صرف نمائشی کاروائی کے طور پر کیا جا رھا ھے کومبنگ آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ ویڈیوز مرتب کرکہ میڈیا سے شیئر کیوں نہیں کیا جاتا۔ایس ایچ اوز کو امتحان کے بعد تعینات کیا جاتا ھے مگر ان کرائمز کی روک تھام میں انکی آراء کو اھمیت نہیں دی جاتی مٹینگ میں صرف پگڑی اچھالی جاتی ھے۔محکمہ پولیس کے نچلے طبقے کو صرف سزائیں دی جاتی ھیں جس سے نچلے طبقے میں بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ھے اور وہ خوف کے مارے کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ایس ایس یو،آر آر ایف،اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ،کرائم برانچ پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں صرف انکی گاڑیاں پیڑول پی رھی ھیں۔پولیس منشیات کے اور اسلحہ برآمدگی کے جھوٹے مقدمات کر رھی ھے سابقہ کرمنل جو توبہ تائب ھوچکے ہیں انہیں بلاوجہ بند کر کہ دوبارہ کرائم کی طرف راغب کیا جا رھا ھے۔منشیات اور اسلحہ برآمدگی کی موقع پر ویڈیو بنانے اور میڈیا سے شیئر کے احکامات سے پول کھل سکتا ھے۔انہی جھوٹے مقدمات کی بھرمار سے شعبہ تفتیش کے پولیس افسران پر کام کا دباؤ پڑتا ھے جس سے وہ ان مقدمات پر توجہ نہیں دے پاتے اسکے علاوہ جوڈیشل پالیسی کے 14 یوم میں چالان جمع کرانا بھی انہیں تفتیش کرنے کا موقع فراھم نہیں کرتا بلکہ آپریشن پولیس کو بلاوجہ ھر سیکورٹی ڈیوٹی میں گھسیٹنا بھی انکی ڈیوٹی کو متاثر کرتا ھے سیکورٹی ڈیوٹی کے پالیسی ساز کو خصوصی توجہ دینی چاھیے۔دنیا جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رھی مگر تھانہ جات میں فنگر پرنٹ لینے والا کوئی اھلکار نہیں جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے اور ثبوت اکھٹے کرنے بابت تھانہ جات کے اھلکار نابلد ھے انہیں کورسسز کرائیں جائیں تاکہ بلاوجہ کی فرانزک ٹیموں اور انکے اخراجات سے بچا جائے۔تھانہ جات کی سطح پر فنڈ کو منتقل کیا جائے تاکہ افسران بروقت عوام کو سہولت دے سکیں اور فون لوکیٹر کو اگر تھانہ جات نہیں ٹاؤن اور ضلعی سطح پر فراھم کیا جائے تاکہ بروقت کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔ٹرانسفر اور پوسٹنگ کو آٹو پر رکھا جائے ھر دوسال کے بعد اھلکار اور کلرک کی ٹرانسفر پوسٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.