fbpx

کراچی میں پیپلز بس سروس کا کیا بلاول نے افتتاح

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پیپلز بس سروس کا افتتاح کردیا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اوروزیرٹرانسپورٹ بھی بلاول بھٹوکے ہمراہ تھے ،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیپلز بس سروس پر بلاول بھٹو کو بریفنگ دی ، بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کراچی کے 7 روٹ پر 230 بسیں چلائی جائیں گی 10 بسیں لاڑکانہ کے ایک روٹ پر چلائی جارہی ہیں،کل سے 20 بسیں ملیر کالا بورڈ سے ٹاور کے روٹ پر چلائی جائیگی ملیر کالا بورڈ سے ٹاور تک 38 بس اسٹیشنز بنائےگئے ہیں، یکم جولائی سے مزید دو روٹ پر بسیں چلائی جائیں گی

بلاول بھٹو زرداری نے افتتاح کے بعد پیپلز بس سروس میں بیٹھ کر سفر بھی کیا، وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پیپلز بس سروس سے عوام کو سستی سفری سہولت ملیگی اور پیپلز بس سروس کا زیادہ سے زیادہ کرایا 50 روپے ہوگا، پیپلز انٹرا بس سروس آغاز جدید سفر کی طرف ایک قدم ہے جبکہ پٹرول کی قیمتیں میں اضافے کے بعد یہ بس سروس عوام کے سفری مسائل کو تھوڑا کم کر دے گی۔ پیپلز بس سروس پر، مختص نشستیں مختلف معذور افراد، بزرگ شہریوں اور خواتین کے لیے دستیاب ہیں۔

وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ترقیاتی کاموں میں تیزی لارہی ہے ،صحافیوں کی بہبود کے لیے سندھ حکومت نے بہت کام کیے، پیپلزبسیں کراچی میں روٹ پرچلیں گی پیپلزبسوں کا موازنہ کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کی سروس سے کیا جا سکتا ہے، پیپلز بس 7روٹس پر چلے گی پہلے پر آغاز ہوچکا ہے،انٹرا بس سروس کا کریڈٹ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کودونگا کراچی میں دیگر بس سروس بھی جلد شروع ہونگی ،بسوں کے لیے پلانٹ کراچی میں لگائے جائیں گے تا کہ کم قیمت پر فراہمی ہوں ،صحافیوں کو لائف انشورنس دینے جارہے ہیں رجسٹرڈ صحافیوں کو ہیلتھ کارڈ اور انشورنس دی جائیگی ، کلمہ پڑھ کر بول دیں کہ عمران خان امریکی سازش سے نکلے ہیں یا اپنی کاررکردگی کی بنا پر، میں کلمہ پڑھ کہ کہتا ہوں یہ امریکی سازش نہیں اپنی کارکردگی سے نکلے ہیں پورے پاکستان میں لانگ مارچ ہوا ،10 جگہوں پر روکا گیا ،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں گرین بیلٹ جلائے گئے اکبر ایس بابر کا پارٹی فنڈنگ سے متعلق موقف سب کے سامنے ہے،اکبر ایس بابرکے مطابق بھارت اوراسرائیل نے پی ٹی آئی کو فنڈنگ کی،مودی الیکشن لڑ رہا تھا، کس لیڈرنے نیک خواہشات کا اظہارکیا تھا ،بلاول بھٹو نے امریکا میں کہا کہ ہمارے وزیراعظم کا روس جانا ٹھیک تھا، گھڑیاں تو پرانی ہوگئیں ، مکہ ایڈیشن گھڑی کا نام تھا،غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں، آج سیاست کو ٹھیک کریں،اگر آپ کے ہاتھ صاف تھے تو پشاور بی آرٹی میں 7ارب روپے کی کرپشن کیسے سامنے آئی، پشاور ہائیکورٹ نے کہا بی آر ٹی پر نیب اور ایف آئی اے انویسٹی گیشن کریں پی ٹی آئی نے انویسٹی گیشن پر اسٹے آرڈر کیوں لیا ؟

عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،سپریم کورٹ

عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین امیز ریمارکس،سینئر اینکر پرسن بارے عدالت کا بڑا حکم