fbpx

کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کو قتل کرنے والے پولیس آفیسرز انجام کو پہنچ گئے

کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کو قتل کرنے والے پولیس آفیسرز انجام کو پہنچ گئے، عدالت نے ایس ایچ او سمیت 3 ملزمان کو سخت ترین سزا سنا دی- تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جعلی مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت کا جرم ثابت ہونے پر ایس ایچ او سمیت تین ملزمان کو سزا سنادی۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں گلشن معمار میں جعلی مقابلے میں نوجوانوں کی ہلاکت کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے نوجوان کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر سابق ایس ایچ او سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی، عدالت نے ملزمان پر ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ استغاثہ کے مطابق 2017 میں پولیس نے ناکے پر 2 موٹر سائیکل پر سوار چار شہریوں کو روکا تھا کاغذات نہ ہونے پر پولیس نے اشرف، علی اکبر کو روکا ساتھی کاغذات لے کر واپس آئے تو اشرف اور علی اکبر موجود نہیں تھے ۔
استغاثہ کے مطابق بعدازاں معلوم ہوا کہ پولیس نے اشرف کو جعلی مقابلے میں مار دیا جبکہ علی اکبر زخمی ہوگیا تھا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سابق ایس ایچ او سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی اور ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بھی کراچی میں ایک ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، کراچی کے علاقے سائٹ ایریا حبیب چورنگی کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان ہلاک ہوگیا تھا، مقتول سلطان نذیر کے اہلخانہ نے مقابلے کو جعلی قرار دیا ہے، لواحقین کے احتجاج کے دوران ایس ایچ او سائٹ اے محمد ایاز تھانے سے فرار ہوگئے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ مقتول سلطان نذیر بی کام پرائیویٹ کا طالب علم تھا، وہ گزشتہ روز سائٹ ایریا میں رشتے دار کے سوئم سے واپس گھر جارہا تھا۔ مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ سلطان نے گارڈن میں گھر جانے کے لیے آن لائن موٹر سائیکل بک کروائی تھی، مقتول کو کزن نے آن لائن سروس سے موٹر سائیکل بک کروا کر دی، وہ دیر رات تک گھر نہ پہنچا تو کزن نے آن لائن سروس سے رابطہ کیا، موٹر سائیکل رائیڈر نے اطلاع دی کہ فائرنگ کا واقعہ ہوا اور میں فرار ہوگیا۔
سلطان کے اہلخانہ کے مطابق رائڈر کی اطلاع پر سائٹ اے تھانے پہنچے تو پولیس نے مقابلہ ظاہر کیا، اسے موٹر سائیکل چلانا نہیں آتی تھی، وہ بی کام کرنے کے بعد صدر میں گارمنٹس کی دکان چلاتا تھا اور اس نے گزشتہ دنوں ہی کاروبار ختم کیا تھا، سلطان کا ایک بھائی لاہور، والدین ، دو بہنیں ، چھوٹا بھائی ہنزہ میں رہتے ہیں۔ مقتول کے لواحقین نے بتایا کہ اعلیٰ افسران نے ایس اپی بلدیہ کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی میں ہمارے عمائدین کو بھی شامل کیا جائے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!