fbpx

کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

کراچی : کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

پولیس ایکشن کے وقت اسلم وزیراعلیٰ ہاؤس کے مقام پر نہیں،پولیس ایکشن تقریباً ساڑھے6 بجے شروع ہوا تو اسلم پریس کلب پر موجود تھا، اسلم کی رات8 بج کر 19 منٹ پرلوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی۔

با خبر ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دوران احتجاج اور پولیس ایکشن کے وقت ایم کیوایم کارکن اسلم کی ہلاکت سے متعلق پولیس کی تفتیش جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے اسلم کے فون کا کال ریکارڈ ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔
جس سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ روز ایم کیوایم کے جاں بحق جوائنٹ یوسی آرگنائزر اسلم پولیس ایکشن کے وقت وزیراعلیٰ ہاؤس پر نہیں بلکہ پریس کلب کے مقام پر موجود تھا۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلم کے پورے دن کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز ایک بج کر42 منٹ پر اسلم اپنے گھر میں موجود تھا،5بج کر 10منٹ پر شارع فیصل احتجاج میں پہنچا، پھر اس کی لوکیشن 6بج کر32 منٹ پر کراچی پریس کلب پر موجودگی کی آئی، پریس کلب کے مقام پر اسلم6 بج کر32 منٹ سے لے کر7 بج کر54 منٹ تک موجود رہا۔

جبکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے تقریباً ساڑھے6 بجے پولیس ایکشن شروع ہوا جبکہ اس وقت اسلم پریس کلب کے مقام پر موجود تھا، بعدازاں رات 8بج کر19 منٹ پر اس کی لوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی جو اسلم کی واپسی بھی ہوسکتی ہے، رات 8 بج کر 42 منٹ پر اس کی لوکیشن فیڈرل بی ایریا بلاک 15 کے آئی ایچ ڈی کی آئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس وقت کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز میں اسلم کو لایا گیا تھا، رات 10بج کر29 منٹ پر اسلم کا انتقال ہوا اور رات10 بج کر33 منٹ پر اس کی موبائل لوکیشن گھر کی آئی جب میت گھر لائی جا چکی تھی۔
اسلم کے اہلخانہ نے پوسٹ مارٹم کروانے سے بھی انکار کیا تھا۔یاد رہے کہ ایم کیوایم پاکستان نے گزشتہ روز بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔

تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں ایک کارکن جاں بحق جبکہ ایم پی اے لیاقت اور متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے تھے ۔