کاون کے بعد کراچی سفاری پارک میں زنجیروں میں قید ملکہ نامی بیمار ہتھنی علاج کی منتظر

0
47

کاون ہاتھی کے بعد کراچی سفاری پارک میں زنجیروں میں قید ملکہ نامی ہتھنی بھی اعلیٰ حکام کی توجہ کی منتظر-

باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اردو صفحہ نامی اکاؤنٹ میں ایک پوسٹ شئیر کی گئی جس میں ملکہ نامی ہتھنی کے بارے میں دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا-

اردو صفحہ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ میں کراچی سفاری پارک میں ملکہ نامی ہتھنی کے زخمی پاؤں کی تصاویر شئیر کی گئیں اور کیپشن میں لکھا کہ سفاری پارک کراچی میں ملکہ نامی ہتھنی کے پاؤں میں سخت اِنفیکشن ہے جسکی وجہ سے وہ اپنا پاؤں زمین پر نہیں رکھ پاتی اور درد سے کراہتی رہتی ہے۔

اردو صفحہ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ کی جانب سے درخواست کی گئی کہ دن کے پندرہ گھنٹے زنجیروں سے بندھی رہنے والی ملکہ علاج کی منتظر ہے کہ کوئی مسیحا بن کر اربابِ اختیار تک اُسکی تکلیف پہنچائے ، تاکہ اسکا علاج کروایا جا سکے-


انسٹاگرام پر شئیر کی گئی اس پوسٹ پر صارفین کی جانب سے انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ملکہ نامی ہتھنی کا علاج کرنے اور اس کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے-

کاون ہاتھی کی کہانی:

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں کاون نامی ہاتھی کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا تھا دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی ’کاون‘ سری لنکا میں 1981 میں پیدا ہوا۔ وہ صرف چار سال کا تھا جب سری لنکا کی حکومت نے اسے پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر پاکستان کو تحفے میں دے دیا۔

اسے زنجیروں میں قید کیا گیا تھا زنجیروں میں جکڑا کاون اکیلے ہونے کی وجہ سے دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا تھا اور وہ ہر وقت یا تو پریشانی میں اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

تاہم 2015 کی گرمیوں میں ایک دن امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی ہوئی ثمر خان اور ان کی والدہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کا رخ کیا۔

جب ثمر کاون کے پنجرے کے پاس پہنچی تو وہ کیا دیکھتی ہیں کہ کاون زنجیروں میں کھڑا ہے اور مسلسل بس اپنا سر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا رہا ہے۔

چونکہ ثمر اس وقت جانوروں کی ڈاکٹر بن رہی تھیں وہ فوراً سمجھ گئیں کہ کاون کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے ٹھان لی کہ وہ کاون کو وہاں سے آزاد کروا کر رہیں گی۔

بس پھر کیا تھا ثمر خان نے دیواروں سے ٹکریں مارتے کاون کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ کے نام سے مہم شروع کی اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کاون کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔

ثمر نے ایک آن لائن پیٹیشن ’فری دی کاون‘ کا بھی آغاز کیا جس پر دنیا بھر سے چار لاکھ افراد نے دستخط کیے۔ ثمر اور اس مہم کا حصہ بننے والوں نے چڑیا گھر کے حکام، سی ڈی اے کے افسران اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی خط لکھے اور اپیل کی کہ کاون کو آزاد کیا جائے۔

دیکھتے ہی دیکھتے زنجیروں میں جکڑے کاون کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور امریکہ کی مشہور گلوکارہ شیر کو بھی اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ہاتھی کاون کی خراب حالت کے بارے میں معلوم ہوا۔

جانوروں سے بہت پیار کرنے والی اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی شیر بھی ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ مہم کا حصہ بن گئیں اور پاکستانی حکومت سے کاون کی آزادی کی گزارش کی۔

شیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کاون کو آزاد کر دیا جائے تو کاون کو اس کے گھر سری لنکا یا کمبوڈیا لے جانے کا سارا خرچہ وہ اٹھائیں گی۔

جب بچوں، بڑوں اور بوڑھوں سب نے کاون کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی تو چڑیا گھر انتظامیہ بھی مجبور ہوگئی اور انھوں نے بالآخر کاون کو زنجیروں سے آزاد کر دیا۔

لیکن کاون کے دوستوں کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔

وہ جانتے تھے کہ کاون کا پنجرہ اس کے لیے بہت چھوٹا ہے اور پھر اس کا کوئی ساتھی بھی نہیں ہے اس لیے زنجیریں کھول دینے سے کاون ٹھیک نہیں ہوگا۔

انھوں نے اپیل کہ کاون کو کسی محفوظ قدرتی مقام جیسا کہ سری لنکا یا کمبوڈیا منتقل کیا جائے جہاں وہ آزادی سے دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ رہ سکے۔

لیکن چڑیا گھر والوں کے پاس بھی تو بس ایک ہاتھی تھا وہ بھلا کیسے کاون کو اتنی آسانی سے جانے دیتے؟

کبھی وہ کہتے ہم کاون کو یہاں ہی بڑا پنجرہ بنا دیں گے اور اس کی ایک اور ساتھی لے آئیں گے۔ کبھی کہتے ہمیں جب تک ایک اور ہاتھی نہیں ملے گا ہم کاون کو نہیں جانے دیں گے۔

بس پھر کیا تھا سینیٹ کی ایک کمیٹی نے ان چڑیا گھر والوں کو بلا لیا اور 2016 میں حکم دیا کہ کاون کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے۔

لیکن سینیٹ کے حکم کے باوجود بے چارے کاون کو کسی نے چڑیا گھر سے جانے نہ دیا تو کاون کے دوستوں نے عدالت کا رخ کیا-

کاون کے دوستوں کا یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا اور عدالت نے کہا کہ اس چڑیا گھر میں کاون تو کیا کوئی بھی جانور نہیں رہے گا۔ جانوروں کو اتنی بری حالت میں قید رکھنا بلکل صحیح بات نہیں! اس لیے کاون کو کمبوڈیا اور چڑیا گھر کے باقی سارے جانوروں کو کسی محفوظ جگہ منتقل کیا جائے-

اور بالآخر 35 سال تنہا زنجیروں میں گزارنے کے بعد گزشتہ سال 30 نومبر کو کاون کو کمبوڈیا کے ہرے بھرے جنگلوں میں بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزاررہا ہے-

Leave a reply