کراچی سے ملک چلتا ہے لیکن اس کراچی کو ہی نظر انداز کیا گیا،مصطفیٰ کمال کا شکوہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے لیے کاغذی پیکج کا اعلان کیا اور پھر مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کہ کراچی سے ملک چلتا ہے لیکن اس کراچی کو ہی نظر انداز کیا گیا۔ کراچی پیکج کراچی کے خرچے پر ہی شہریوں کو بریانی کھلانے کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی کس جواز کے تحت وفاقی حکومت پر تنقید کر رہی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں جو کارنامے کیے وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ ہم نے کراچی پیکج سے پہلے ہی انکار کر دیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ کچھ نہیں ہو گا یہ صرف باتوں کا ٹورنامنٹ ہے۔

مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں تو اختیارات اور حقوق چاہیں۔ کراچی کو پیکج دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کی مہینے بھر کی تنخواہ چھین لو اور پھر خیراتی ادارے سے بریانی لاکر اسے کہو کہ اپنا پیٹ بھر لے۔ کراچی کے معاملات سے سب کی توجہ ہٹ گئی ہے،

مصطفیٰ کامل کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کے صوبے کے نعرے کو سندھی بھائیوں میں بیچ کر اپنی کرپشن چھپا دیتی ہے۔ صوبے کی بات کرنے والی ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی دو وزارتیں دیدے تو یہ پھر ایک دوسرے کو اجرکیں پہنائیں گے۔

دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

کرونا کے باعث نالوں کی صفائی کا کام تاخیرکا شکار ہوا،وزیراعلیٰ سندھ

صوبائی خود مختاری کے نام پر صرف ایک شخص کو اختیار دیا گیا،مصطفیٰ کمال

کراچی کے مسئلہ پر آرمی چیف کو وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرنی چاہئے،مصطفیٰ کمال نے کیا تشویش کا اظہار

مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں حکمرانی کرنے کے بعد دونوں جماعتیں ٹوپی ڈرامہ کر رہی ہیں، ایک کہتا ہے سندھ دھرتی کو تقسیم کرو دوسرا کہتا ہے دھرتی کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، کہتے ہیں کہ پانی جب ملے گا جب صوبہ بنے گا، قانون کہتا ہے صوبہ کے لئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہونی چاہئے

این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.