ورلڈ ہیڈر ایڈ

کرتارپور،سکھ برادری کے دل جیت لئے،فقیدالمثال منصوبہ کا وزیراعظم کریں گے آج افتتاح

کرتارپور،سکھ برادری کے دل جیت لئے،فقیدالمثال منصوبہ کا وزیراعظم کریں گے افتتاح،تیاریاں مکمل

اسلام آباد ۔ 8 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550ویں جنم دن کے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کے جذبہ کے عکاس کرتارپور راہداری کے فقید المثال منصوبہ کا آج ہفتہ کو افتتاح کریں گے۔ بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کےلئے آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جنم دن کی تقریبات میں 10 ہزار سے زائد سکھ یاتری شرکت کریں گے۔

کرتارپور راہداری کی تعمیر کے بعد روزانہ5 ہزار سکھ یاتری گورودوارہ دربار صاحب کی یاترا اور وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔ یہ شاندارمنصوبہ خطہ میں قیام امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کےلئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کیا گیا اوراس کےلئے فنڈز مکمل طور پر پاکستان نے فراہم کئے ہیں اور یہ سکھ برادری کےلئے ایک تحفہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے راہداری کے افتتاح اور گوروجی کے جنم دن کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی کے لئے پاسپورٹ کی شرط عارضی طور پر ختم کر دی ہے جبکہ 2 دن کیلئے سروس چارجز کی بھی چھوٹ دی گئی ہے۔

اس راہداری کا مقصد سکھ برادری کو پاک۔بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع گردوارہ دربار صاحب کی یاترا میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے حکومت پاکستان نے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرتارپور گوردوارہ میں سکھ یاتریوں کی رہائش کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور کمپلیس کے اندر لنگر خانہ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ یاتریوں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کیلئے کاﺅنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے تقریباً 800 ایکڑ اراضی حاصل کرکے گوردوارہ کی انتظامیہ کو تحفہ کے طور پر دی ہے اس میں سے 42 ایکڑ اراضی گوردوارہ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے مختص کی گئی ہے جبکہ 62 ایکڑ اراضی لنگر خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو گی۔

کرتارپور، بھارت کی سازشوں کا پاکستان جواب دینے کو تیار

کمپلیکس کے احاطہ میں ایک میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پر سکھ برادری کے مذہبی رہنماﺅں کی تصاویر اور سکھ مذہب کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے 12 بستروں کا ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ کمپلیکس کے اندر سکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے تقریباً 250 کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ 1500 اہلکار یاتریوں کی سہولت کیلئے فرائض انجام دیں گے۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے منی ایکسچینج آﺅٹ لیٹ اور سووینیئر شاپس بھی قائم کی گئی ہیں۔

باباگورنانک کے 550ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والے سکھ یاتریوں نے کہا کہ ہم پاکستان کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا سکتے، دنیا میں بسنے والے ہر سکھ کے دل میں گورو دھرتی کی محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور ہر کوئی کرتارپور یاترا کےلئے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کےلئے کسی جنت سے کم نہیں، کرتارپور صاحب کے درشن کرکے آنکھوں کو سکون محسوس ہو رہا ہے، اتنی قلیل مدت میں ہونے والے شاندار تعمیر دنیا میں کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں، سکھوں کےلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہےں کیا جا سکتا۔550ویںجنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری سکھوں کےلئے ایک انمول تحفہ ہے، ہمارے تمام گوردواروں کو سجایا گیا ہے جبکہ گوردوار جنم استھان کی خوبصورتی دیدنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیار و محبت بانٹے میں پاکستان اور مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔

واضح رہے کہ 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

کرتارپورراہداری کا ہر صورت افتتاح کیا جائے گا، وزیر مذہبی امور

کرتارپور راہداری کب کھولی جائے گی؟ گورنر پنجاب نے بتا دیا

14 مارچ کو اٹاری کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے وفود کی سطح پر پہلے مذاکرات ہوئے اور 14 جولائی کو کرتار پور راہداری کے حوا لے سے واہگہ کے مقام پر اجلاس ہوا، دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیموں میں تین سے زائد ملاقاتیں ہوئیں اور انفراسٹرکچر پر اتفاق کیا گیا۔

30 ستمبر کو پاکستان نے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کو راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی لیکن فی یاتری 20 ڈالرز فیس کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔ 21 اکتوبر کو بھارت نے پاکستان کی شرط مان لی اورر 24 اکتوبر معاہدے کی تاریخ طے پا گئی۔ 12 نومبر کو بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن منایا جائے گا۔

کرتارپورراہداری کے افتتاح کے موقع پر نارووال میں مقامی سطح پر تعطیل کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر وحید اصغر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

کرتارپور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ سرحدی راہداری ہے جو بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک صاحب کو پاکستان کے علاقہ کرتارپور میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی مقدس عبادت گاہ سے منسلک کریگی۔ اس راہداری کا مقصد بھارت کے مذہبی عقیدت مندوں کو پاک بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر دور واقع گردوارہ دربار صاحب کی زیارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

انٹرنیشنل سکھ کنونشن میں گورنر پنجاب کے خطاب کے دوران سکھوں کے پاکستان زندہ باد کے نعرے

انٹرنیشنل سکھ کنونشن کا آغاز، سکھ برادری پاکستان کا امن پسند چہرہ دنیا کو دکھائے،فردوس عاشق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.