fbpx

کاشانہ کیس،وزیراعلیٰ کا نوٹس، حقائق کیا ہیں،ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی

کاشانہ کیس،وزیراعلیٰ کا نوٹس، حقائق کیا ہیں،ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کاشانہ کیس پر ‏ابتدائی رپورٹ آ گئی، جس کے مطابق وزیراعلیٰ آفس کو ملنے والی شکایات اور 24 جولائی کو سیکرٹری سوشل ویلفیئر کی جانب سے ملنے والی رپورٹ پر وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو تحقیقات کے بعد سفارشات جمع کروانے کا حکم دیا گیا، انسپکشن ٹیم نے تفصیلی کاروائی اور تحقیق کے بعد اپنی سفارشات پیش کیں

تحقیقات سے ڈی جی سوشل ویلفیئر پر ایک خاتون کو زبانی احکامات پر ملازمہ رکھوانے کے الزامات ثابت ہوئے اور پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی سفارش کی گئی ، سپرنٹنڈنٹ کاشانہ کو ڈی جی کے غیر قانونی احکامات ماننے اور غیر متعلقہ افراد کو کاشانہ میں آنے جانے کی اجازت دینےکا ذمہ دار ٹھہرایاگیا

انسپکشن ٹیم نےسپرنٹنڈنٹ کاشانہ اور سابقہ ڈی جی سوشل ویلفیئر کو ٹرانسفر کرنے اور پیڈا ایکٹ کےتحت کارروائی کی سفارش کی انسپکشن ٹیم کی سفارشات کے مطابق ٹرانسفر آرڈرز ملنے پر متعلقہ سپرنٹنڈنٹ نے چارج چھوڑنے کی بجائے ادارے کو تالے لگا کر سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنا شروع کر دیں

سوشل ویلفیئر کے افسران موقع ہر پہنچے اور انتظامیہ کی مدد سے 4 گھنٹے کے بعد ادارے کا کنٹرول نئی سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دئیے اور اب حالات نارمل ہیں.

واضح رہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں یتیم کمسن بچیوں کی شادی نہ کروانے کے جرم میں کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتاری کے وقت افشاں لطیف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے شوہر سمیت گرفتار کیا جا رہا ہے۔مجھے نہیں معلوم اب مجھے کہا لے کر جایا جائے گا اب یہ بچیاں آپ سب کی ذمہ داری ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر کا شانہ کے بارے میں وائرل ہونے والی ویڈیوکے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے رپورٹ طلب کر لی ہے-وزیراعلیٰ نے حکم دیاہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور الزامات کی مکمل چھان بین کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں -وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی- کاشانہ میں رہائش پذیر بچیو ں کومکمل تحفظ دیں گے اور میں بے آسرا بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کروں گا-

پولیس کا کہنا ہے کہ سپرنٹنڈنت کاشانہ لاہور افشاں لطیف کو سرکاری رہائش گاہ پر قبضے کے الزام حراست میں لیا، افشاں لطیف نے اپنے ہی ادارے کی ڈی جی کرن امتیاز پر الزامات لگائے تھے۔افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ کرن امتیاز کم عمر لڑکیوں پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتی تھیں۔ پولیس کے مطابق خاتون افسر کے ساتھ شوہر کو بھی حراست میں لے کر رہائشگاہ خالی کرالی گئی ہے، خاتون افسر پر تبادلے کے باوجود رہائش گاہ خالی نہ کرنے کا الزام تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.