مقبوضہ کشمیر،1988 سے اب تک کتنے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا؟ رپورٹ جاری

مقبوضہ کشمیر،1988 سے اب تک کتنے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا؟ رپورٹ جاری

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری تھیں جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔27اکتوبر کو ہر سال کشمیری،اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ پورے کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔

2019میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا کر زبردستی بھارتی کا حصہ بنا دیا ۔

جنوبی ایشیا کے خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ سال اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40768 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں 25203 حریت پسند اور 15147عام شہری شامل ہیں۔ان میں 1988سے 2000 تک 12396حریت پسند اور 10310 عام شہری شہید ہوئے۔1988سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں6994سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

مقبوضہ کشمیر میں 2000سے اب تک بھارتی فوج کی طرف سے کی گئی کاروائیوں میں 110185 افراد زخمی ہوئے، 4847 عورتیں بیوہ ہوئیں، 11560بچے یتیم ہوئے،11075مکانات یا دوسرے تعمیراتی سٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیاجبکہ خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں121واقعات میں229کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20، ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 18کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 49فورسز اہلکار ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے151واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 31واقعات میں30شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ22سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں119مختلف واقعات میں 248افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 16جولائی 2016کو برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے پیلیٹ گنز سے عوام کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ۔ اس وقت سے اب تک چھروں سے زخمی افراد کی تعداد 10120ہے جبکہ 75 کشمیری مکمل طور پر بصارت سے محروم ہوگئے۔ 198 ایک آنکھ کی بصارت سے محروم ہوئے، اور1000 کی بصارت ضایع ہونے کے قریب ہے،1800افراد کی بصارت کو جزوی نقصان پہنچا۔

مقبوضہ کشمیر میں اب تک کئی علاقون میں بھارتی افواج نے کشمیریوں کا قتل عام کیا۔مقبوضہ کشمیر کی تاریخ دل دہلانے والے خونین قتل عام کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ سوپور، ہندوارہ، کپواڑہ، گاوکدل ہو یا دیگر دل گداز واقعات ہوں، ہر جگہ بھارت کی قابض افواج نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر مین قتل عام کے تقریبا35واقعات میں 643افراد بہیمانہ طریقے سے شہید کئے گئے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.