مقبوضہ کشمیر۔ کرفیو مسلسل 15دن سے جاری، غذائی اشیاءکی شدید قلت

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 15ویں دن میں داخل ہو گیا۔ بھارتی حکام نے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کر کے سری نگر کو ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ سری نگر شہر میں ہزاروں بھارتی فوجی اور پیرا ملٹری فورسز شہر میں گلی گل، محلہ محلہ گشت گر رہے ہیں تاکہ کشمیریوں کو بھارت مخالف مظاہرے کرنے سے روکا جاسکے ۔ 5 اگست سے ٹی وی چینلز، انٹرنیٹ اور فون سروس بند ہے۔

جمو ں خطے کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کی گئی تھیں لیکن اسے ایک بار پھر معطل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے علاقے ڈورو میں واقع شاہ آباد ، وریناگ میں ، بھارت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین پر فورسز نے طاقت کا کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے ایک لڑکی اور ایک چھوٹا بچہ زخمی ہوگیا۔

یاد رہے کہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت رہنما نظربند یا جیلوں میں بند ہیں۔ اس بار بھارت نواز سیاست دانوں جیسے فاروق عبد اللہ ، عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی ، غلام احمد میر ، انجینئر عبد الرشید اور شاہ فیصل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ شدید ناکہ بندی کی وجہ سے قحط جیسی صورتحال پیدا رہی ہے کیونکہ لوگوں کو اشیائے خوردونوش اور زندگی بچانے والی دوائیوں سمیت ضروری اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے اور مقبوضہ کشمیر اپنے تمام مظاہروں میں ایک انسانی بحران کی نمائندگی کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.