fbpx

کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

کیوں بھئی؟

کشمیر ہی کیوں؟

یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

1. وادی نیلم

سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

2. راولاکوٹ

آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

3. بنجوسا جھیل

اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

4. وادی جہلم

آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

5. رام کوٹ قلعہ

یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

6. تولی پیر

ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

7. پیر چناسی

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

8. وادی لیپا

اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

9. لال قلعہ

یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

10. شونٹر جھیل

ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔