مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز اجلاس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بلاجواز اعتراض پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اہم بیان۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس کچھ دن قبل ماسکو میں ہوا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں یہ اصول طے ہے کہ اس فورم پر دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دو طرفہ معاملات کیلئے سائیڈ لائن ملاقاتیں طے ہوتی ہیں۔ ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی۔ بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔ کل شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز کا اجلاس تھا جس میں بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض اٹھایا جسے مسترد کر دیا گیا چنانچہ اسے ندامت اٹھانا پڑی۔ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،اقوام متحدہ کی اس ضمن میں قراردادیں موجودہیں۔ روس نے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے بھی بھارت کے نقطہ نظرکو تسليم نہيں کيا۔ بھارت کے سیکورٹی ايڈوائزر نے اجلاس سے واک آؤٹ کي دھمکی دی اور پھر واک آؤٹ کیا۔ بھارت اپنے رويے سے ہر فورم پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ لداخ کے حوالے سے چین نے بھارت کو بارہا گفتگو کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی پیشکش کی۔ لیکن بھارت نے وہاں بھی جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور بھر اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کو چين نے تسليم نہيں کيا۔ چين نے بھارت کو جارحيت پر جواب دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.