کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر: فیصل ندیم

کشمیر آج ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے, کشمیر ایک ایسا نام کہ جس کے ساتھ پاکستان کا ہر دل دھڑکتا ہے, بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور آج یہ شہہ رگ ظالم و جابر دشمن کے ہاتھ میں ہے آج ایک ماہ ہونے کو آیا ہے کشمیر کرفیو کے شکنجے میں ہے کشمیر کی ہر گلی ہر محلے میں آج بھارتی فوج موجود ہے. کشمیریوں کیلئے خوراک ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت بند ہیں گھر سے نکلنے کا ایک مطلب ہے گرفتاری ۔
آٹھ سے اسی سال کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں.
زخمی اور بیمار ہاسپٹل منتقل نہیں کئے جاسکتے وہاں بھی بھارتی درندے اپنے پنجے تیز کئے موجود ہیں ہاسپٹل جانے کا مطلب بھی گرفتاری ہے ۔۔۔۔
محترم بھائیواپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اس طرح ظلم کی چکی میں پستا دیکھ کر ہر پاکستانی مضطرب ہے ہر پاکستانی کے لبوں پر سوال موجود ہے کیا کشمیر پاکستان سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا گیا ہے ؟؟؟
آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمہ سے یقینی طور پر یہی سمجھا جارہا ہے ہر طرف سقوط کشمیر کی باتیں ہیں ہر زبان کشمیر کا نوحہ پڑھتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہاں تھوڑا سا رک کر بعض امور کا جائزہ لینا ضروری ہے.
آرٹیکل 370 اور 35 اے کشمیر کو بھارتی آئین کی رو سے خصوصی حیثیت دلواتا ہے اس آرٹیکل کی موجودگی میں کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کسی غیر کشمیری کو کشمیر میں نوکری نہیں مل سکتی کشمیر کا اپنا جھنڈا اپنا آئین ہے کوئی بھارتی حکومت کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ ان پر مسلط نہیں کرسکتی ان تمام تر سہولیات کو دیکھتے ہوئے سمجھ یہی آتا ہے کہ اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اگر ختم کردیا گیا تو کشمیر کی حیثیت بھارت کی ایک ریاست کی سی ہوجائے گی یہاں غیر کشمیریوں کی زبردست یلغار ہوگی جس کے ذریعہ یہاں آبادی کا تناسب بدل دیا جائے گا اور یوں مستقبل میں ہر وہ راستہ جو آزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی طرف جاتا ہوگا بند ہوجائے گا
اس پوری صورتحال پر بحث کرنے سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ حالات کا دھارا کبھی بھی بندوں کے ہاتھ میں نہیں رہا یہ ہمیشہ بندوں کے رب کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی اور حال بڑے بڑے عروج زوال کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں بڑے بڑے سمجھدار لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ان کی پوری قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے ایسا ہی کچھ نریندر مودی کے ساتھ بھی ہوا ہے بھارت کے گورباچوف مودی سے ایک ایسی غلطی ہوچکی ہے جو ابتدا میں کشمیر کی آزادی اور پھر بھارت کی بربادی کا سبب بننے والی ہے.
کیا حالیہ دنیاوی تاریخ کو تھوڑا سا جاننے والا کوئی فرد انکار کرے گا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کی نظروں میں اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا اقوام متحدہ جو اپنی قراردادوں کی رو سے اس مسئلہ کے حل کی ذمہ دار تھی اس مسئلہ کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک چکی تھی کیا آرٹیکل 370 اور 35 اے سات لاکھ بھارتی فوج کے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم میں رکاوٹ تھی یقیناً نہیں ۔۔۔
یاد کریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا لگتا یوں تھا سارا معاہدہ کفار مکہ کے حق میں ہے لیکن یہی معاہدہ جزیرة العرب میں کفار کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا سبب بنا تھا اس زمانے میں قبیلے بنو خزاعہ اور بنو بکر بھی اسی علاقہ میں بستے تھے بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا تو بنو بکر کفار مکہ کا ۔ صلح حدیبیہ کی رو سے ان دونوں قبیلوں کی جنگ کی صورت میں مسلمانوں اور کفار مکہ پر لازم تھا کہ وہ اپنے حلیف کی مدد نہ کریں لیکن کفار مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی اور یوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا کہ وہ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو لیکر آگے بڑھیں اور مکة المکرمہ سے کفر و شرک کی ہر علامت کو مٹادیں واللہ یہی صورتحال آج بھی ہے کل کے مشرکین مکہ کی طرح آج کے مشرکین ہند نے مدینہ ثانی پاکستان کو اسی طرح موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی بتکدہ ہند پر اسی طرح چڑھائی کرے جس طرح کل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی.
سقوط کشمیر کی بات کرتے پاکستانی دودھ کے جلے ہیں اس لئے چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں ان کے ذہنوں میں آج بھی سقوط مشرقی پاکستان زندہ ہے اس لئے ان کے دل ڈرے ہوئے ہیں.
لیکن یہاں سمجھنا چاہئے مشرقی پاکستان ابتدا سے پاکستان کا حصہ تھا وہاں پاکستان کی حکومت پاکستان کا انتظام تھا پاکستانی فوج مشرقی پاکستان کی حفاظت پر مامور تھی اور جب بھارتی حکومت نے سازشوں کے جال بچھا کر اسلام اور پاکستانیت کو پیچھے کیا لسانیت و علاقائیت کو فروغ دیا تو اس طرح کے رخنے ہمارے اور مشرقی پاکستان کے بیچ پیدا ہوئے جہاں سے دشمن کو ہمارے بیچ سرائیت کرنے کا موقع ملا اور اس نے ہمارے بیچ نفرتیں پیدا کرکے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا لیکن کشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں تقسیم ہند کے وقت سے ہندوستان کی فوج اور ہندوستان کا انتظام موجود ہے کل یہ فوج سات لاکھ تھی آج کچھ اضافے کے ساتھ سات لاکھ اڑتیس ہزار ہوگئی ہے آرٹیکل 370 کو نہ پہلے کسی نے مانا تھا ( پاکستان ، حریت کانفرنس ، کشمیری مجاہدین ) نہ آج کوئی تسلیم کر رہا ہے
یاد کیجئے کچھ دن قبل بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ہی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگایا تھا وجہ صرف ایک سیاسی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو روکنے میں ناکام ہوچکی تھی اب گورنر راج سے اگلا قدم اٹھایا ہے تو اس کی وجہ بھی بنیادی طور پر کشمیریوں کے جذبہ حریت کے سامنے بھارت کا اعتراف شکست ہے
کیا اس حقیقت سے آج کوئی بھی باشعور فرد انکار کرسکتا ہے کہ مودی کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر دنیا کی نظروں میں زندہ ہوگیا ہے اقوام متحدہ کب کا مسئلہ کشمیر کو دفن کر چکی تھی لیکن آج چون سال بعد کشمیر پھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ چکا ہے کیفیت یہ ہے کہ سارا انٹرنیشنل میڈیا میں بھارت پر تھو تھو کی جارہی ہے یورپی پارلیمنٹ برطانوی پارلیمنٹ امریکی اراکین کانگریس سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں میں کھلے عام بھارت پر تنقید ہورہی ہے بھارت جو بڑے فخر یہ انداز میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا تھا آج پوری دنیا میں ایک فاشسٹ ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے بھارتی سنگھ پریوار کی انتہا پسندی کی داستانیں ساری دنیا میں زبان زد عام ہیں عرصہ دراز بعد دنیا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سفارت کاری کا جارحانہ رخ دیکھا ہے.
اس پوری صورتحال میں ایک سوال جو کانٹے کی طرح پاکستانیوں کے دلوں میں کھٹکتا ہے وہ یہ ہے کہ کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد دیکھنے کے باوجود دیگر مسلم ممالک کا طرزعمل کیا ہے وہ پاکستان کے ساتھ آکر کیوں نہیں کھڑے ہوتے اس کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ آج دنیا میں تمام ممالک سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں پھر کسی اور کا یہی وجہ ہے کہ مفادات کی ڈور میں بندھے مسلم ممالک بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے دنیا سے بھیک مانگتے ان ممالک میں سے کون سا ملک ایسا ہے جو پاکستان کی خاطر خواہ مدد کرنے کے قابل ہے مشرق وسطی میں ایک چھوٹے سے رقبہ اور قلیل آبادی کا حامل ملک اسرائیل ان تمام ممالک کے سینے پر چڑھ کر انہیں رگیدتا دکھائی دیتا ہے پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ آکر پاکستان کا دفاع کرنا شروع کردیں ان تمام ممالک میں سب سے بری صورتحال متحدہ عرب امارات کی ہے جس نے عین اس وقت کہ جب پاکستان بھارت کے بیچ طبل جنگ بجنے کو ہے بھارتی دہشتگرد وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے پاس بلا کر اپنے سب سے بڑے سول ایوارڈ نواز دیا امارات کے اس عمل کو پاکستانیوں نے اپنے ساتھ کھلی دشمنی سے تعبیر کیا اور عوامی سطح پر اس حوالہ سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے.
بہت سارے لوگ جو اس کیفیت میں پاکستان کے امت کیلئے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ وہ ملک جس نے اپنی معیشت کی بنیاد ہی بدکاری پر رکھی ہو ساری دنیا کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے ہر طرح کے برائی کے اڈے اپنی سرزمین پر بنائے ہوں جن کی زندگی کا واحد مقصد کسی بھی طرح کا حربہ اور طریقہ اپنا کر اپنی عیاشی کو تحفظ دینا ہو وہ کیسے امت کیلئے کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے.
یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے اپنی ابتدا سے اپنے لئے کٹھن راستے کا انتخاب کیا ایک طرف عین مسلم ممالک کے بیچ ایک ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی جارہی تھی اور وہ اف تک نہ کر سکے تھے تو دوسری طرف اپنے قیام کے ابتدائی مہینوں میں ہی کمزور ترین پاکستان کشمیر کے محاذ پر اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو للکار رہا تھا ایسے وقت میں کہ جب کشمیر میں بھارت نے اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور پاکستان کی افواج کا انگریز کمانڈر جنرل گریسی کسی بھی قسم کے اقدام سے گریزاں تھا تو اسٹیٹ پالیسی کے طور پر قائداعظم محمد علی جناح نے جہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کروایا تھا وہ نہرو جو کل پاکستان کو ایک کمزور ریاست قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ پاکستان شبنم کے قطروں کی مانند ہے جو سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوجائے گا آج اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر جنگ بندی کی دہائیاں دے رہا تھا.
یہ پاکستان تھا کہ جس ستمبر 1965 میں اپنے سے کئی گنا عددی اور عسکری قوت رکھنے والے ملک کے دانت کھٹے کیے تھے یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے انیس سو اکہتر میں اپنا ایک بازو گنوایا لیکن اس کی بھی وجہ ہندوستان کی بہادری نہیں ہمارا باہمی انتشار تھا لیکن ہم نے ہتھیار نہین ڈالے اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتے رہے دشمن کی ساز شوں کے جال میں پھنس کر زخم زخم ہونے والے پاکستان نے اپنے زخموں سے اٹھنے والی ٹیسوں کو اپنا ہتھیار بنایا تھا اور مستقبل میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے جیسے عظیم کارنامے کو سرانجام دیا تھا.
ایسے وقت میں کہ جب دوسرے اسلامی ممالک اپنے اپنے ملکوں میں عیاشی کے اڈے کھول رہے تھے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے میں مصروف تھے پاکستان دنیا کا بہترین میزائل سسٹم تشکیل دے رہا تھا پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک تھا جو دفاعی خود کفالت کی منزل کے حصول کیلئے محنت کرتے ہوئے لڑاکا طیارے جدید ٹینک بکتر بند اور دیگر اسلحہ تیار کررہا تھا.
یہ پاکستان ہی تھا کہ جس نے سرخ ریچھ سوویت یونین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا تھا ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں روس کی خوف سے کانپ رہی تھی پاکستان نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اسے شکست فاش دیکر کتنی مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی آزادی کا سامان کیا تھا.
نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد ساری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان ختم ہونے کو ہے یہ پاکستان تھا کہ جس نے بظاہر اپنی مستقل حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے یوٹرن لیکر امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ صرف اپنی صفیں درست کرنے کیلئے تھا ہر گزرتا دن افغانستان میں امریکہ کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث تھا امریکہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر اترنے والے اتحادی ایک ایک کرکے گھر دوڑ رہے تھے جبکہ سپر پاور امریکہ اپنی سپرپاوری بچانے کیلئے میدان میں کھڑا ہونے پر مجبور تھا لیکن مسلسل گرنے والی لاشوں اور اخراجات کے بھاری بھرکم بوجھ نے امریکی سپرپاور کو بھی آخرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اس جنگ کو جیتنے والے بظاہر افغان طالبان تھے لیکن جن کے ساتھ بیتی تھی وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس جنگ میں ان کا اصل حریف کون تھا فاکس نیوز کو دیا گیا امریکی جنرل ڈیمپسی کا انٹرویو سننے کے قابل ہے جس میں امریکی سورما سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دیدی لیکن افغانستان میں آپ خود شکست کھا رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے امریکی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا اس کا جواب صرف ایک لفظ ہے پاکستان ۔۔۔۔
پھر اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ امریکیوں کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہی کیسے پاکستان نے مزاحمت کاروں کو منظم کرنا شروع کیا انہیں اپنے پاس پناہ دی انہیں سہولیات فراہم کیں اور پوری جنگ ان کے ساتھ مل کر لڑی.
کیا خیال مسلم ممالک میں کوئی دوسرا ملک ہے جو دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کے خلاف مزاحمت کی ایسی تاریخ رکھتا ہو.
یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے کشمیر کو ہمیشہ اپنی شہہ رگ قرار دیا ہے بھارت سے ہونے والی سارے جنگوں کا سبب بھی کشمیر ہی ہے آج بھی پاکستان پوری طرح سے کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہے پاکستان کے اسی کردار کے سبب کسی نہ کسی طرح جاری رہنے والی تحریک آزادی کشمیر آج اپنے بام عروج ہر پہنچ چکی ہے اور کیفیت یہ ہے کہ بھارت کو اپنی حمایت کیلئے کشمیر سے ایک قابل ذکر شخص میسر نہیں ہے جس دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی بھارت کی جانب سے بڑے فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے آج پوری آب و تاب سے دوبارہ افق دنیا پر نمودار ہوچکا ہے فاروق عبداللہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سکہ بند بھارت نواز بھی آج اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان سے بھارت کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی وہ کہہ رہے ہیں ہم غلط تھے اور محمد علی جناح درست ۔۔۔۔
معزز قارئین یقین رکھیں آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے اپنے حوصلوں کو بلند اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھئے آج کی صورتحال میں دشمن کا سب سے کاری وار وہ پروپیگنڈہ ہے جو وہ پاکستان عوام اور افواج کے بیچ غلط فہمیاں پھیلانے کیلئے کرتا ہے ایسے منفی پروپیگنڈہ سے خود بچنا بھی ضروری ہے تو دیگر پاکستانیوں کو بچانا بھی ضروری ہے اس لئے ہمہ وقت چوکنا اور چوکس رہئے جان لیجئے اس وقت پاکستان میں فرقہ واریت لسانیت علاقائیت سمیت انتشار کی کوئی بھی بات کرنے والا شخص ملک و ملت کا دشمن ہے دوست نہیں ۔۔۔
اللہ رب العزت نے پاکستان کو آج بھرپور دفاعی صلاحیتوں سے نوازا ہے بہت جلد وطن عزیز اپنے معاشی مسائل سے بھی باہر نکل آئے گا اور یہ وہ وقت ہوگا کہ جب پاکستان قائد ہوگا اور ساری دنیا کے مسلمان اس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ حاصل کریں گے اسی لئے
پاکستان سے محبت کیجئے
پاکستان کی حفاظت کیجئے
اسلام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.