ورلڈ ہیڈر ایڈ

کشمیر جنت نظیر،کرفیو کے 120 روز،مساجد کو تالے، کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم جاری

کشمیر جنت نظیر،کرفیو کے 120 روز،مساجد کو تالے، کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم جاری

مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی معطلی کو چار ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اس دوران صورتحال میں کوئی نمایاں قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ 120دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال میں سب کچھ بند ہے، تعلیمی ادارے، موبائل ،ٹرین،ہسپتال سب کچھ بند ہے اور کشمیری بدستور گھروں میں قید ہیں انہیں نکلنے کی اجازت نہیں.

مقبوضہ کشمیر میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے قتل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وادی میں خوف کے سائے برقرار ہیں جبکہ سری نگر کی جامع مسجد سمیت دیگر مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی جاگتی۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور وادی میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور وادی کا دنیا سے تعلق تاحال منقطع ہے۔کشمیریوں کونماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لیے ، سری نگرمیں جامع مسجد کے اطراف کی سڑکیں سیل ہیں۔ کشمیری 16 ہفتوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی سے محروم ہیں۔

تاریخی جامع مسجد سری نگر کو سن 2016ء میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد 19 ہفتوں تک بھارت سرکار نے بند کیا تھا۔ اور پانچ ماہ بعد 25 نومبر کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ 19 ویں صدی میں اس تاریخی مسجد کو سکھ حکمرانوں نے 1819ء سے 1842ء تک مسلسل 23 برسوں تک بند رکھا تھا۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد خصوصی خطبہ دیا کرتے تھے تاہم ان کی لگاتار نظر بندی سے یہ سلسلہ مسلسل معطل ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں سے وابستہ بیشتر لیڈران جن میں تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، پانچ اگست سے مسلسل نظر بند ہیں . حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ ،سیدہ آسیہ اندرابی و دیگر بھی نظر بند ہیں یا جیلوں میں ہیں.

اگرچہ فون سروسز کی جزوی بحالی سے لوگوں کی مشکلات کا قدرے ازالہ ہوا ہے لیکن انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز مسلسل معطل ہیں ۔پیر کی صبح سکیورٹی فورسز نے کولگام قصبے کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ اس دوران علاقے میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ۔ کولگام قصبے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا اور وہاں کسی بھی فرد کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔

جموں خطے کے ضلع رامبن میں بھی بھارتی سکیورٹی فورسز نے بڑا سرچ آپریشن شروع کیا ہے، قابض فوج نے الزام لگایا ہے کہ یہ آپریشن علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے بعد شروع کیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں دو کشمیری نوجوانوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیاگیا ہے۔کپواڑہ کے علاقے ریشی گنڈ کے رہائشی محمد افضل لون کو بھارت مخالف مظاہروںکا اہتمام کرنے کے جرم گرفتار کر کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سرینگر سینٹر جیل منتقل کردیاگیا ہے۔سرینگر کے علاقے نوگام سے تعلق رکھنے والے فیاض احمد گنائی نامی ایک اور کشمیری نوجوان کو پولیس نے پتھرائو کے الزامات کے تحت گرفتار کر کے پی ایس اے لاگو کردیا۔ دونوں نوجوانوںکو سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیاہے

بی جے پی حکومت نے اشارہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مرکزی سیاسی جماعتوں کے قائدین طویل عرصے تک نظربند رہیں گے اور یہ کہ بدعنوانی میں ملوث سیاسی رہنماؤں کو بخشا نہیں جائے گا۔ مختلف پنڈت تنظیموں کے نمائندوں نے بے گھر کشمیری ہندوؤں کی وطن واپسی اور بحالی کے لئے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے ۔اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں بے گھر ہونے والی آبادی کے مستقبل پر مکمل طور پر خاموش ہے۔

گزشتہ چار ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں دو خواتین اورتین لڑکوں سمیت اڑتیس کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ان میں سات کشمیریوں کو جعلی مقابلے یا حراست کے دوران شہید کیاگیا ۔ گولیوں ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے استعمال کی وجہ سے 853کشمیری شدید زخمی ہوئے ۔اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 39خواتین کی بے حرمتی کی ۔

جموں میں موبائل انٹرنیٹ سروس پر مسلسل پابندی کے خلاف جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی (جے کے این پی پی) کے متعدد کارکنوں نے ایک مظاہرہ کیا۔جس کی قیادت جے کے این پی پی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے کی ، جنھوں نے الزام لگایا کہ مرکز نے مقبوضہ کشمیر کو معاشی طور پر تباہ کردیا ہے اور وہ طلبا کے کیریئر سے بھی کھیل رہی ہے۔

مواصلاتی خدمات پر عائد پابندیوں کے باعث صحافیوں، طلبا اور تاجروں کے مسائل میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی کے باعث انہیں اپنے پیشہ ورانہ کام کی انجام دہی کے لئے جو مشکلات درپیش ہیں، ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں قائم میڈیا سینٹر میں روز جانا پڑ رہا ہے جو موجودہ حالات اور موسم کے چلتے انتہائی کٹھن کام ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر میں نظربند سیاسی رہنماﺅں میں سے چند رہنماﺅں کو اپنے گھروں میں منتقل کرکے ان کے گھروں میں نظر بند کرے گی۔ بظاہر گھروں میں منتقلی کی وجہ ہوسٹل میں جس کو سب جیل قراردیا گیا ہے ، سہولیات کی عدم فراہمی بتایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں منتقل کئے جانے والے رہنماﺅں کا نام ظاہر کئے بغیر کہاگیا ہے کہ علیل اور بزرگ رہنماﺅں کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے دو نظربند رہنماﺅں حکیم محمد یاسین اور محمد اشرف میر کوہوسٹل سے رہا گیا تھا تاہم انہیں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.