کشمیر جنت نظیر وادی نیلم کا یادگار ٹور … طارق محمود

اکثر لوگ لوگ عید الفطر، عید الاضحی، 14 اگست اور دیگر موقعوں پر گھومنے پھرنے کے پروگرام ترتیب دیتے ہیں سیر و سیاحت سے سے انسان ایک دفعہ پھر روزمرہ زندگی کے امور انجام دینے کیلئے زیادہ چست ہو جاتا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر وادی لیپا دیکھنے کا ارادہ کیا دوستوں سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ موٹر سائیکلوں کی سواری کی جائے آئے اور عید کے دن شام دس بجے نکلنے کا فیصلہ کیا گیا معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہمارے گروپ میں سے کوئی بھی بندہ پہلے وادی لیپا نہیں گیا وادی لیپا کے متعلق معلومات رکھنے والے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ وادی لیپا جانا چاہتے ہیں ہیں تو ضروری ہے کہ آپ میں سے کم از کم ایک بندہ ایسا ہو جو اس سے پہلے وادی لیپا جا چکا ہو، ورنہ بہتر ہوگا کہ آپ وادی نیلم کا رخ کریں کیونکہ وادی نیلم بھی خوبصورتی کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اپنا پروگرام بدلنا پڑا اور میں اپنے دس دوستوں کے ساتھ عید شام 10 بجے وادی نیلم کی صرف موٹر سائیکل پر روانہ ہوا ،

رات ہونے کی وجہ سے سے شدید گرمی اور لو سے تمام دوست محفوظ رہے مری ایکسپریس وے شروع ہوتے ہی بولان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ پر رکے ہاتھ منہ دھویا اور چائے سے لطف اندوز ہوئے جس کے بعد ایکسپریس سے ہوتے ہوئے مری اور پھر کوہالہ تک باآسانی ہم صبح چھ بجے پہنچ گئے کوہالہ چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروائی گئی اور وہاں دس منٹ رک کر دوستوں نے دریا کے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھویا تیز رفتار دریا کا نظارہ کیا اور ابھرتے ہوئے سورج کا حسین منظر دیکھا جس کے بعد مظفرآباد کی طرف قافلہ رواں دواں ہوا ساڑھے سات بجے ہم مظفر آباد لاری اڈا کے قریب پہنچے اور گرما گرم پراٹھے، آملیٹ اور چنوں کے ساتھ ناشتہ کیا تقریبا 30 سے 35 منٹ کے قیام کے بعد آباد جی ٹی بائیکرز کا قافلہ آٹھمقام کی طرف روانہ ہوا تو چند ہی کلومیٹر پر آرمی کی چیک پوسٹ آئی جہاں پر ایک دفعہ پھر ہمیں انٹری کرانی پڑی چیک پوسٹ پر موجود فوجی جوانوں نے اپنے بہترین رویہ سے ہمیں متاثر کیا اور آگے وادی کے موسم اور حالات کے بارے میں دوستانہ معلومات فراہم کی 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہم آگے بڑھتے رہے اس دوران دریائے نیلم بل کھاتا ہوا ہمارے ساتھ ساتھ چلتا رہا اونچے پہاڑ ،خوبصورت جنگلات، ندی ،نالے اور آبشاروں نے ہمارے دل کو بہلایا کبھی چشموں کا پانی پیتے تھے اور کبھی آبشاروں کے پاس کھڑے ہوکر تصویریں بنا لیتے جس پر پتہ چلا کہ وادی نیلم آنے کا ہمارا فیصلہ انتہائی درست تھا بلا آخر دن ایک بجے ہم اٹھمقام پر پہنچے۔

13, 14 گھنٹے مسلسل موٹر سائیکل چلانے کی وجہ سے دوستوں کے چہروں پر تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھےہوٹل میں کمرہ لینے کی بجائے کروائے پر ٹینٹ لیا گیا شام تک دوستوں نے خوب آرام کیا کھلے صحن میں دوستوں نے مل کر باربی کیو کی اور ٹھنڈے موسم میں گرم تکے کھا کر شام کو یادگار بنایا گیا اسی دوران تمام دوستوں نے اس ٹور کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن سے صاف پتہ چلتا تھا تھا کہ ہر کوئی بہت خوش تھا اور جتنی حوبصورتی انہوں نے دیکھی شاید وہ اتنی توقع نہیں رکھتے تھے صبح جلدی اٹھا گیا اور موٹر سائیکلوں کا قافلہ اڑنگ کیل کی جانب چل نکلا۔دواریاں کے قریب ناشتہ کیا گیا اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اس بعد ہم مختلف وادیوں گاؤں سے ہوتے ہوئے شاردہ پہنچے یہاں سے کیل اور اڑنگ کیل تک کا راستہ اکثر کچا ہے لینڈ سلائیڈنگ جگہ جگہ ہوتی ہے اور ڈرائیورز کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے کچے پکے رستوں تو اور پہاڑوں سے آتے ہوئے سڑک کے اوپر سے بہنے والے چشموں کے پانی سے گزرتے ہوئے ہم کیل میں داخل ہوئے آئے اور یہاں بھی ہمیں دوبارہ آرمی چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروانی پڑی موٹر سائیکل اور سامان پارکنگ میں جمع کروایا اور کیبل کار کی بجائے پیدل دریا کے پل سے ہوتے ہوئے جنگلات میں سے گزر کر اوپر پہاڑ پر چڑھے اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد اڑنگ کیل پہنچے پہاڑوں دریا اور ندی نالوں کے مختلف دل چھو لینے والے مناظر دیکھے اور تصویریں بناتے رہے گرم چائے کا مزا لیا گیا ہوٹل میں کمرہ بک کروایا گیا یہاں پر بھی ہم نے رات کا کھانا خود تیار کیا اور کھانا کھانے کے بعد دوست سو گئے صبح جب اٹھے تو باہر بارش ہو رہی تھی اور بادل انتہائی نچلی سطح پر رواں دواں تھے مجھے ایسے دلکش مناظر دیکھنے کو ملے جو کسی سے ہالی ووڈ فلم میں بھی نہیں دیکھیں تھے دوستوں نے ایک دفعہ پھر برف پوش پہاڑوں کی فوٹوگرافی کی صبح کا ناشتہ کیا گیا اور پھر اڑنگ کیل سے نیچے اترے جہاں سے واپسی کا سفر شروع ہوا ہوا شاردہ پہنچ کر دوپہر کا کھانا کھایا گیا اور دریا کنارے دوستوں نے تصویریں اور سیلفیاں بنانے کا شوق پورا کیا یاد رہے کہ وادی نیلم میں وہاں کے مقامی موبائل نیٹ ورک کے علاوہ کوئی اور موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور شاردہ میں قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہمارے دو دوست ایک موٹر سائیکل پر کہیں پیچھے رہ گئے تھے جن کا انتظار کیا گیا سہ پہر 3 بجے کے قریب دواریاں پہنچے رتی گلی جھیل دیکھنے کی موسم نے اجازت نہ دی راستے میں بارش نے پھر آ لیا۔جس سے سبق حاصل ہوا کہ کہ وادی نیلم کی سیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ساتھ برساتی رکھے یا پھر کم از کم چھتری ضرور ہو کیونکہ جس طرح موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہیں اسی طرح لگتا ہے کہ وادی نیلم میں بارش کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سخت دھوپ سے سے شدید بارش میں موسم تبدیل ہو جاتا ہے شام سات بجے کے قریب آٹھمقام ہوٹل پر واپس پہنچے اور حسب حال ہم نے کھانا خود تیار کیا شام کو بازار میں نکلے لے اور کشمیری نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں انتہائی دلچسپ بات یہ تھی کہ وادی نیلم کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی پڑھی لکھی ہے ہے حالانکہ ان کو پانچ، دس اور پندرہ کلومیٹر تک پہاڑ چڑھ کر یا پہاڑ اتر کر سکول یا کالج پیدل جانا پڑتا ہے اگلی صبح اٹھمقام سے روانہ ہوئے آئے اور راستہ میں کنڈل شاہی اور کٹن کی وادیوں کی سیر کی گئی 12 بجے مظفرآباد میں ناشتہ کیا گیا یا اور براستہ کوہالہ مری ایکسپریس وے اسلام آباد پہنچے مری ایکسپریس وے کے اختتام پر تیس منٹ کا قیام کیا گیا اور چائے پی گئی اس کے بعد تین گھنٹے کے سفر کے بعد تمام دوست خیروعافیت سے گجرات واپس پہنچ گئے یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وادی نیلم میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد سیر کرنے کے لئے پہنچی ہوئی تھی اور مجھے وہ رجان کم ہوتا ہوا نظر آیا جس کے مطابق پاکستان کی ایلیٹ کلاس پاکستان کی سیر کرنے کی بجائے یورپ کی طرف نکل جاتی ہے اور ہاں اگر آپ بھی موٹر سائیکل پر جانا چاہتے ہیں تو پنکچر کا سامان ساتھ ضرور رکھیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.