کشمیر جانے کے لیے ڈاکٹروں کا چکوٹھی کی جانب سفر جاری

کشمیریوں کے علاج معالجہ کے لئے اور ادویات لے کر جانے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کو روکا گیا تا ہم ڈاکٹروں نے سفر جاری رکھا ہوا ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چکوٹھی کی طرف جانے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کو شاہراہ جہلم پر دھنی کے مقام پر روکا گیا تھا ڈاکٹرز ادویات لے کرلائن آف کنٹرول کے دوسری جانب کشمیریوں کی مدد کیلئےجانا چاہتےتھے،تاہم مقامی انتظامیہ نے کنٹرول لائن کی جانب مارچ کرنیوالے ڈاکٹروں کو روک دیا ہے اور آگے جانے کیا اجازت نہیں دی،

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے چکوٹھی سیکٹر پرحالات کشیدہ ہیں،ڈاکٹروں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے.

ڈاکٹروں کی ٹیم نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے بعد ان کو آگے جانے کی اجازت مل گئی ، ڈاکٹروں کا قافلہ چکوٹھی کی جانب رواں دواں ہے،

قبل ازیں ڈاکٹروں کے وفد نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے روانگی کے وقت کشمیریوں کے حق میں نعرے لگائے تھے .

بھارت میں امام مسجد اور انکی اہلیہ کے قتل کی شیریں مزاری نے کی مذمت

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے کشمیری بھائیوں کے علاج معالجے کیلئے لائن آف کنٹرول پار کرنے کیلئے مظفر آباد سے چکوٹھی کے لئے روانہ ہوئے تھے جہاں سے انہوں نے مقبوضہ کشمیر جانا تھا .

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کی سربراہی 29 ڈاکٹرز کا قافلہ اپنی مدد آپ کے تحت کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے روانہ ہوا تھا .

قبل ازیں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری (اکانومکس اینڈ کامرس) اشیش شرما سے ملاقات کی تھی اور انہیں مقبوضہ کشمیر جانے کے خواہش مند 21 ڈاکٹروں کو ویزا جاری کرنے کی درخواست تھی تاکہ وہاں مسلمان، ہندو، سکھ برادری وغیرہ کو علاج فراہم کیا جاسکے جو مہینے بھر سے جاری مقبوضہ وادی میں کرفیو کی وجہ سے صحت کی سہولیات سے محروم ہیں

لیکن بھارت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.