مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل

چیئرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام نے کہاہے کہ معاشی طور پرمضبوط پاکستان ہی کشمیر کا کیس زیادہ اچھی طرح لڑے گا،مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے،بھارت سیکولر ملک نہیں ہے ہنددتوا کیخلاف کانگرس بھی بات نہیں کرتی ہے، برہان وانی کی شہادت کے بعد جو مقامی مزہمت پیدا ہوئی اس پر بھارت ابھی تک قابو نہیں پاسکا ہے ،ہماری جغرافیہ ہماری طاقت ہے ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے،معاشی ترقی کے لیے ملک میں امن لانا ہوگاامن ہو گا، ادھر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ ہنددتوا سب سے بڑا خطرہ ہے، تیاری کرنی ہوگی نوجوان سوشل میڈیاکااستعمال کریں ۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کااظہارچیرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام،ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے افروایشیاء فورم کے زیراہتمام ہنددتوا نظریہ امن او رمعیشت کے لیے خطرہ کے عنوان سے منعقدہ گول میزمباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مباحثے سے کنوئینرکل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی ،سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان،چیرمین افروایشیاء فورم نعیم صدیقی ،سربراہ تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل،حریت رہنمایوسف نسیم ،دفاعی تجزیہ نگارماریہ سلطان،جنرل(ر) امجد شعیب ،حریت رہنمامیرطاہر مسعود،سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنول دلشاد ودیگرنے بھی خطاب کیا۔چیرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کے مسئلہ کو 72سال ہوگئے ہیں. گرداس پور بھارت کو دینے کی وجہ سے کشمیر بھارت سے جڑ گیا. ریڈ کلف ایوارڈ میں ناانصافی کی بنیاد رکھی گئی مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی فیروز پور کو بھی بھارت کو دے دیاگیا جبکہ اکثریت مسلمانوں کی تھی۔1947سے لے کر اب تک تین جنگیں بھارت کے ساتھ ہوچکے ہیں. بھارت جنگ سے خوف ذدہ تھا کہ وہ شکست کھا جائے گا. اس لیے وہ مسئلہ کشمیرکو سلامتی کونسل میں لے کرگیا. سلامتی کونسل نے حق رائے دہی کا فیصلہ کیا. اس سارے عرصہ میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا،

انہوں نے کہاکہ ہماری حیثیت بھی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتاہے برہان وانی کی شہادت کے بعد جو مقامی مزہمت پیدا ہوئی اس پر بھارت ابھی تک قابو نہیں پاسکا ہے اس کو آگے لے کرجانا ہوگا۔کشمیر کمیٹی میں پہلی بار سینیٹ کے ارکان شامل ہیں یہ حکومت کا حصہ نہیں ہے۔سفارتخانوں کو کشمیر کے حوالے سے کردار دیاجائے گا۔مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے ایک لاکھ شہادتیں ہوئی ہیں۔ بھارت نے جو مظالم کشمیر میں کئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ہے امریکہ اور دیگر ممالک کی بات کرتے ہیں ہم امریکہ کے دفاعی ساتھی تھے مگر کشمیر کی کسی نے بات نہیں کی سی پیک پاکستان کے لیے بہتر ہے. اس سے پاکستان دنیا کے ساتھ منسلک ہوجائے گا پاکستان کے لیے خودمختاری اہم ہے اور اس کے لیے کشمیر اہم ہے ہماری جغرافیہ ہماری طاقت ہے ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے. ہماری معاشی طاقت وہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے اس کے لیے ہمیں امن لانا ہوگا. امن کی وجہ سے چین سپر پاور بن گیاہے آج دنیا کی چین میں سرمایہ کاری کی ہے اگر امن ہو گا تو ملک ترقی کرے گا. سارک کی بنیاد پاکستان نے ڈالی مگر سارک آگے نہیں بڑرہاہے اس کی وجہ بھارت ہے. نریندرمودی نے بنگلہ دیش میں کہاکہ ہم نے بنگلہ دیش بنایاہے. بھارت سیکولر ملک نہیں ہے ہنددتوا کے خلاف کانگرس بھی بات نہیں کرتی ہے.اگر ہم اپنے بچوں کی اعلی تعلیم دیں تو پاکستان کی برآمدات 80ارب ہوجائیں گی. زراعت کو ہم نے یکسر نظر انداز کیا.پاکستان معاشی مضبوط ہوگا تو کشمیر کا کیس زیادہ اچھی طرح لڑیں گے مجھے آئی ایم ایف سے قرض لینا پسند نہیں ہے. قائداعظم کی تقریروں میں چاٹر آف پاکستان نظر آتا ہے. پاکستان میں اتفاق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔معاشی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ ہنددتوا سب سے بڑا خطرہ ہے. اس کے لیے تیاری کرنی ہوگی. نوجوانوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنا چاہیے تاکہ اپنا نقطہ نظردنیاکے سامنے پیش کیا جائے۔کشمیرکامقدمہ لڑنے کے لیے سوشل میڈیاکاپلیٹ فارم استعمال کریں۔کنوئینرکل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہنددتوا کامقصد آزاد کشمیر کو واپس لیناہے۔بھارت کشمیر کی مخصوص حثیت کو تبدیل کرنا چاہتاہے تاکہ آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے. حق خودارادیت اور آزاد پسندوں کے خلاف مزید طاقر کا استعمال کیاجائے ۔ سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر میڈیا کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرئے تو مسئلہ جلد ہوجائے گا مولانا فضل الرحمن نے بھی کشمیر کے لیے اچھا کام کیا۔آج وہ چئیرمین کمیٹی نہیں ہے ہمیں ان کے خلاف باتیں نہیں کرنی چاہیں کل کو آپ فخرامام کے خلاف بھی ایسی باتیں کریں گے ۔چیرمین افروایشیاء فورم نعیم صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوتوا ایک دہشتگردی کا نعرہ ہے اس کے ذریعے نفرت پھیلائی جارہی ہے سیکولر بھارت کا نعرہ مرگیاہے۔

سربراہ تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو اجاگر نے ہماری ذمہ داری ہے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھارت میں ہوتی ہے۔بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے کوئی پڑوسی ملک محفوظ نہیں ہے۔بھارتی جاسوس کلبھوشن کوعالمی عدالت نے دہشتگردتسلیم کرلیاہے کشمیر کے مسئلہ کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے سفارتخانے میں کشمیرسیل بنایا جائے کشمیری قوم بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے کشمیر جل رہاہے اور توجہ چاہتاہے اگر پاکستان کشمیریوں کا پشتی بانا نہ بناتو اس سے نقصان ہوگا. ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے نوجوانوں کو آگاہ کیاجائے بھارت کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتاہے اس کو روکنا ہوگا۔

جنرل(ر) امجد شعیب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 2014میں پہلی بار بی جے پی کے منشور میں ہنددتوانظر آئی مگر نریندرمودی نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی. لوک سبھا کے الیکشن میں دوبارہ مودی جیت گیاہے اگر مودی نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بنانا ہے تو ہندداتوا سے وہ کیوں پیچھے ہوگا. بھارت سمجھتاہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے آبادی کا تناسب تبدیل کیاجائے۔مودی اگلے جنرل الیکشن سے پہلے آرٹیکل 370اور35اے کو ختم کرنا چاہتاہے۔ ہمارے پاس وقت کم ہے. پلوامہ کے حملہ کو آج بھی ہم استعمال کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت تنازعے کی وجہ سے چھوٹے سے واقع سے بھی پاک بھارت میں ایٹمی جنگ ہوسکتی ہے اور دنیا کو یہ باور کرنا ہوگا. بھارت مقبوضہ کشمیر میں پرحملے کا الزام پاکستان پر لگاتاہے مگر ہمیں صرف تردید نہیں بلکہ دنیا کو بتانا چاہیے کہ بھارت صرف الزام لگتاہے ثبوت نہیں دیتاہے. ہمیں مسئلہ کشمیر پر دنیا کے سامنے بیانیہ رکھنا ہوگا کیوں کہ دنیابیانیہ کے پیچھے چلتی ہے۔دفاعی تجزیہ نگارماریہ سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے زیادہ پرانہ مسئلہ کشمیر کا ہے. بھارت کوشش کررہاہے کہ کشمیر کو دہشتگردی سے جوڑا جائے. کشمیر کا مسئلہ 1947سے سلامتی کونسل میں ہے یہ حق خودارادیت کا مسئلہ ہے کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کرنے کا حق ہے سلامتی کونسل ان کو یہ حق دیتاہے کشمیر کو ہمیں انسانی حقوق کے مسئلہ کے طور پر اجاگر کرنا ہوگا. عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے بھارتی سابق فوجیوں کو کشمیر میں آباد کیاجارہاہے اور ان کو یہ حق دیا جارہاہے کہ وہ زمین خریدیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے جب تک حق رائے دہی نہیں ہوتی غیر مقامی لوگ نہ زمین لے سکتے ہیں نہ ان کو آباد کیا جاسکتاہے،

حریت رہنمایوسف نسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت سے کشمیری آزادی لے کررہیں گے کشمیر آزاد ہوگا۔حریت رہنمامیرطاہر مسعودنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 65%بتائی جارہی ہے بھارت نے تقسیم ہند کے دوران ہجرت کرنے والوں کو کشمیرمیںآباد کیا جس کی وجہ سے آبادی 85%سے کم کردہ گئی ہے۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنول دلشاد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نفرت کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہندووں کے مندر کھولے جائیں اس طرح ہی کشمیر آزاد ہوگا۔
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.