ورلڈ ہیڈر ایڈ

کشمیرمیں بھارتی فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے، بھارتی سماجی کارکن کویتا کرشنن

انسانی حقوق کی معروف بھارتی سماجی کارکن اور آل انڈیاپراگریسیو وومز ایسوسی ایشن کی سیکرٹری کویتا کرشنن نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیرمیں فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے لاک ڈاﺅن ہے۔
کشمیری سیاسی کارکن شہلا رشید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج
قبل ازیں کویتا کرشنن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ مودی اور اس کے جماعتی مقبوضہ کشمیر میں ”ریپ کلچر“ کو فروغ دے رہے ہیں۔

بھارتی سماجی کارکن نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کشمیر میں چھوٹی عمر کے بچوں کو گرفتار اور لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ آدھی رات کو گھروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ چپے چپے پر فوج کھڑی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے دہلی پولیس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی بارے تبصرہ کرنے والی کشمیری سماجی کارکن شہلا رشید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔
شہلا رشید نے اپنے ایک ٹویٹ میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا ، ”بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اندھا دھند مردوں کو اٹھا رہی ہے ، گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔“

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.