مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی خواتین کی اصل تعداد منظر عام پر آ گئی، واپس بھیجنے کا مطالبہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے نام نہاد گھر واپسی منصوبہ سے متاثر ہوکر آزاد کشمیر سے واپس جانے والے کشمیریوں کی پاکستانی بیویوں نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا ہے کہ انہیں بھارتی شہریت دی جائے یا انہیں واپس پاکستان بھیجا جائے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کشمیری شہریوں کی پاکستانی بیویوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نیپال کے راستے کشمیر آئی ہیں لیکن نہ تو انہیں سفری دستاویزات دی جارہی ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ احتجاج کے دوران مذکورہ خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایبٹ آباد پاکستان کی رہنے والی طیبہ نے کشمیری صحافیوں کو بتایا کہ ہم کل ملاکر یہاں350خواتین ہیں،ہم مطالبہ کرتی ہیں کہ ہمیں بھارت کی شہریت فراہم کی جائے۔ہم حکومت ہندوستان اور یہاں کی ریاستی سرکار سے اپیل کرتی ہیں کہ ہمیں سفری دستاویزات فراہم کریں اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو ہمیں واپس پاکستان ہی بھیج دیں۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ خواتین نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر خارجہ ایس جے شنکر، ریاستی گورنر ایس پی ملک اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے مداخلت کی درخواست کی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے پاس ان کے کاز کی حمایت کریں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیریوں کی پاکستانی بیویوں نے کہا کہ انہیں آزاد کشمیر میں ان کے گھروالوں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی کیونکہ ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں رہنے والے سینکڑوں کشمیری مہاجرین جنہوں نے پاکستان میں شادیاں کر رکھی تھیں بھارتی حکومت کے گھر واپسی منصوبہ کے اعلانات سے متاثر ہو کر مقبوضہ کشمیرکا رخ کیا تاہم اب وہاں جانے والی پاکستانی خواتین سخت مشکل میں ہیں اور یہ خواتین اور ان کے بچے بھارتی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے شہری حقوق سے بھی محروم ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.