fbpx

کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

5 جنوری ایوان صدر اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے 29 سال سے انڈیا میں قید حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی تقریب رونمائی کی گئی ۔جس میں صدر پاکستان ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار خان آفریدی، علی محمد خان ، دیگر ایم این ایز، ایم پی ایز، صحافی حضرات اور مجھ سمیت سینکڑوں کشمیری و پاکستانی نوجوانوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں ڈاکٹر قاسم فکتو کے صاحبزادہ احمد بن قاسم نے مسلئہ کشمیر کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور پورا ایوان تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور احمد بن قاسم کا پورے ایوان نے کھڑے ہوکراستقبال کیا۔ احمد بن قاسم کا کہنا تھا کہ ” ہمارا مسلئہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بھارتی جارحانہ قبضہ ہے ۔اگربھارت جارحانہ قبضہ ختم کر دے تو نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی ۔ ”

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ ” میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر پر کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو گی اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انڈیا میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرائے گا ۔” چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھی ایوان سے پر جوش خطاب کیا ۔ شہریار خان آفریدی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ” قانونی حربہ استعمال کر کے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آواز بلند کریں گے اگر قانون واقعی اندھا ہے اور مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنے گا تو پھر غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے باہر نکلنا ہوگا، آزادی کیلئے معصوم ہاتھوں میں پتھر اٹھانے ہوں گے ، آزادی لینے کیلئے بندوق اٹھانی پڑےگی ، آزادی کے حصول کیلئے برہان وانی بننا پڑےگا اور آزادی لینے کیلئے کلمہ حق پڑھ کر جہاد کی راہ اختیار کرنی پڑےگی ۔” سینئر صحافی عمران ریاض خان نے بھی کشمیری ہونے کے ناطے اپنے آبائی وطن بانڈی پورہ جانے کا اظہار کیا اور ایوان میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگوائے اور پورا ایوان کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

ڈاکٹر قاسم فکتو جو کہ گزشتہ 29 سال سے انڈیا کی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے پست نہ کر سکے ، ان کی امید کو توڑ نہ سکے اور آزادی کی آواز کو بند نہ کر سکے ۔ بھارت نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن آواز بند کرنے کی بجائے ڈاکٹر قاسم فکتو کی کئی آوازیں اب کشمیر کی آزادی کیلئے بلند ہو رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر یوتھ الائنس ہے ۔کشمیر یوتھ الائنس کا ہر نوجوان کشمیر کی آزادی کی آواز ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو کی طرح کئی حریت رہنما انڈین جیلو ں میں قید ہیں جو گمنامی کی زندگی بسر کر ہے ہیں ۔

ڈاکٹر قاسم فکتو نے جیل میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب ” بانگ” ہے ۔ جس میں سادہ اور آسان لفظوں میں مسلئہ کشمیر کو بیان کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو نے کشمیر سے متعلق بھارتی خفیہ منصوبوں کی نشاندہی کچھ اس طرح سے کی کہ : کشمیر کی ملت اسلامیہ کے خلاف سامراجی سازش کے تین بنیادی کردار ہیں۔موہن داس گاندھی اور پنڈت نہروجنہوں نے کشمیر پرقبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور ریڈکلف جس نے جغرافیائی راستہ فراہم کیا اور ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے اس کے لئے سیاسی ماحول فراہم کیا۔ لکھتے ہیں کہ "بھارتی سرکار کے پاس مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ،اب اسی آپشن کے تحت بھارتی سرکار سرعت کے ساتھ کام کررہی ہے۔” بھارت سرکار کروڑوں بھارتی ہندوﺅں کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال کرکے ان کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کشمیرہندﺅں کی اہم مذہبی جگہ ہے، اسطرح بھارتی سرکار کشمیر کو ہندﺅں کا مذہبی مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر شہہ رگ ہے اور دوسری طرف اٹوٹ انگ لیکن کشمیریوں کی کسی کو پراہ نہیں ۔