fbpx

"باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 کو ختم کیے ہوئے بھارت کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن کشمیر آج بھی بھارت کے لیے ویسا ہی ہے جیسا نوے کی دہائی میں تھا، کشمیر میں کوئی چوٹی، کوئی بلڈنگ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جہاں بھارتی ترنگا لہرا سکے.
کشمیری آج بھی سینہ تان کر کھڑے ہیں. قربانیاں دینے کے باوجود اپنے آپ کو بھارت کا شہری کہنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور قربانیاں بھی ایسی کہ پوری وادی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں کوئی شہید نہ ہوں. وگرنہ تو کیفیت یہ ہے کہ بیٹا ہے تو باپ نہیں ہے. باپ ہے تو بھائی غائب ہے.
بلکہ بقول احمد بن قاسم پاکستان میں نارمل یہ کہ والدین ہیں بہن بھائی ہیں آپ صبح اٹھتے ہیں ناشتہ کرتے ہیں اور پھر روٹین کے کام کاج میں جاتے ہیں کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی جاب پر اور کوئی گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے.
جبکہ کشمیر میں نارمل یہ ہے کہ بیٹا رو رہا ہے کیونکہ اس کا باپ شہید ہے. ماں غمگین ہے کہ لخت جگر انڈیا کی جیل میں ہے، بہن ساکت بیٹھی ہے کہ صبح اس کے بھائی کو بس سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا ہے. صبح اٹھ کر کالج و اسکول اور جاب پر جانے کی فکر نہیں بلکہ نارمل یہ ہے کہ احتجاج ہے، معرکہ ہے، پتھراؤ ہے اور ظلم ہے.
جو لوگ کشمیر کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ بھارت وہاں پر ہر قسم کے ترقیاتی کام کروانے کو تیار ہے، ہر قسم کی سہولت کشمیریوں دینے کو تیار ہے لیکن کشمیری ہر قسم کے لالچ، ہر قسم کے ظلم اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں.
جبکہ ہم پاکستانیوں کی صورتحال کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ساتھ، اخبارات میں اشتہارات دے کر، آدھا گھنٹہ چپ کھڑے ہوکر ، نغمے اور ترانے بنا کر بلکہ اب تو وہ سلسلے بھی گئے اور ساتھ کھڑا ہونے کی باتیں بھی قصہ پارینہ ہوئیں. اب تو باز گشت ہے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل بارڈر میں بدلنے کی، ادھر تم اور ادھر ہم والے نظریات کی…
کشمیر کی تقسیم کے فارمولوں کی آوازیں ابھر رہی ہیں لیکن یاد رکھیے گا یہ کشمیر ہے شہداء کا مقدس لہو اس سرزمین پر گرا ہے، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر اس کے لیے قربان کیے ہیں آپ اس مقدس لہو سے غداری کریں گے تو نہ قدرت آپ کو معاف کرے گی اور نہ وہ مائیں جن کے جگرگوشے اس سرزمین پر قربان ہوئے.
اٹھیے کشمیر سے وفا کیجیئے، تقسیم برصغیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائیے دیکھیے اللہ کی رحمتیں آپ کے پاکستان پر کیسے برستیں ہیں اور ظلمتوں کے بادل کیسے چھٹتے ہیں.
دل جوش میں لا فریاد نہ کر
تاثیر دکھا تقریر نہ کر
یا طاقت سے کشمیر چھڑا
یا آرزو کشمیر نہ کر