مقبوضہ کشمیر، سیاحوں کو زبردستی نکال دیا گیا، پٹرول کی قلت

مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کے حکم کے بعد سیاحوں نے کشمیر سے جانا شروع کر دیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 38 ہزار مزید بھارتی فوج کی تعیناتی کے بعد کشمییر میں کرفیو کا سا سماں ہے، پٹرول پمپوں پر پٹرول ختم اور اے ٹی ایم پر بھی رش دیکھنے کو ملا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں کو بھارت سرکار کی جانب سے نکل جانے کے حکم کے بعد سیاحوں نے کشمیر سے جانا شروع کر دیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر کے مختلف علاقوں میں بیس ہزار سے زیادہ سیاح تھے جنہیں بھارت سرکار کی جانب سے نکل جانے کے حکم کے بعد انہیں زبردستی ہوٹلوں سے نکالا گیا اور نئی دہلی روانہ کر دیا گیا، اس ضمن میں سیاحوں کو بسوں اور جہاز کے ذریعے روانہ کیا گیا. سرینگر ائیر پورٹ سے پہلی بار ہر دس منٹ بعد دہلی کے لئے پرواز گئی، ائیر پورٹ پر سیاحوں کا رش دیکھنے کو ملا دوسری جانب سیاحوں کو ائیر پورٹ پر ٹکٹ کی قیمتیں زیادہ کر کے انہیں لوٹا گیا.

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں ایک ہفتے میں 38 ہزار فوجیوں کے اضافے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے تمام علاقوں میں کرفیو کا سماں ہے، بھارت سرکار کشمیر مین کیا کرنے والی ہے ؟ اس پر کشمیری پریشان ہیں انہیں کچھ نہیں بتایا جا رہا، کشمیر کو بھارتی فوج کی چھاؤنی بنا دیا گیا ہے، بھارتی فوجیوں کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد کشمیر میں پٹرول پمپوں پر شہریوں کا رش ختم نہیں ہو رہا ،کشمیری پٹرول جمع کر رہے ہین ،کئی پٹرول پمپوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ،کئی پمپوں پر پٹرول ختم ہو گیا، اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود بینکوں کی اے ٹی یم کے باہر بھی لمبی لائنیں دیکھنے کو ملیں.

واضح رہے کہ بھارت سرکار نے گزشتہ روز سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.