ورلڈ ہیڈر ایڈ

کشمیری بہن ارفع کی دردناک داستاں

ظلم و ستم کی کی ایک اور داستان ،بھارتی افواج نے جب کشمیری سولہ سالہ بیٹی کی زندگی میں اندھیر مجا دی
بھارتی درندے کس طرح کشمیری لڑکیوں کے ساتھ ظلم و ستم کر کے انہیں اپاہچ بنا رہےرہیں.ارفع کی دلدوز داستان سے اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے.
ارفع روبینہ جس کی عمر سولہ 16 سال ہے اور وہ ایک سٹوڈنٹ ہے۔ اپنے گھر سرینگر میں سٹدی کر رہی تھی کہ اچانک انڈین آرمی کے دو اہلکار گھر میں گھس آئے اور ارفع سے کہا کے تمہارا بھائی کہاں ہے؟ ارفع اس وقت بجائے اس کے کہ ہندو فوجی درندوں کےسامنے سہم جاتی یا ڈر جاتی اس نے شجاعت اور بہادری سے پر عزم لہجے میں کہا کہ

ارفع نے کہا کے میرا بھائی کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے گیا ہے۔
ارفع کا یہ جواب دینا ہی تھا کہ اس بات سے آرمی کے اہلکار غصے سے آگ بگولہ ہوئے اور ارفع کو سر کے بالوں سے پکڑ کر ارفا سے کہا کے تم کو بھی آزادی چاہیئے؟

تو ارفع نے چیخ کر کہا:
” کشمیر کے مسلمانوں کا ایک ستان, پاکستان یا قبرستان”

اس کے بعد آرمی کے اہلکاروں نے ارفا پہ بدترین تشدد کیا، اس سے جب انکا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو ارفا کی آنکھوں پر پیلٹ گن سے فائر کیے جس سے ارفا کی دونوں آنکھیں مکمل طور پہ ضائع ہوگیئں۔
یہ ہے وہ سین جو آج کشمیرمیں ہر گھر کے اندر دھرایا جارہا ہے.اور ہر گھر میں ارفع کے ساتھ ہندو فوجی یہی عمل کر رہے ہیں اور ظلم کی داستاں اسی طرح دھرائ جا رہی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.