بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنماوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق

سرینگر:بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنماوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ، اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں مختلف جیلوں میں نظربندہزاروں کشمیری صحت کے شدید مسائل سے دوچار ہیں۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماوں بشمول محمد یسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم بٹ ،جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے سربراہ ڈاکٹر حمید فیاض، سیدہ آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد القیوم ، نعیم احمد خان ، محمد ایاز اکبر ، الطاف احمد شاہ ، پیر سیف اللہ ، معراج الدین کلوال ، فاروق احمد ڈار ، مولانا سرجن برکاتی ، قاضی یاسر احمد ، ایڈووکیٹ زاہد علی ، مولانا مشتاق ویری ، غلام احمد گلزار اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری محمد اشرف بھٹ اس وقت غیر قانونی حراست میں ہیں۔

کشمیر میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دگر حریت رہنماوں نے سیاسی نظربندوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کالے قانون ، پبلک سیفٹی ایکٹ پر عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور متعدد دیگر سیاسی رہنماوں اور کارکنوں پر عائد پابندی کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محبوبہ مفتی حراست میں شدید بیمار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں تھنک ٹینک کشمیر شماریاتی مرکز ، کشمیر کی سول سوسائٹی ، یوتھ فورمز اور حریت رہنماوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر اپیل کی ہے کہ وہ بھارت سے ان قیدیوں کی حالت زار کا مسئلہ اٹھائیں۔ انہوںنے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اوربرطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمس سے بھی اپیل کی کہ تہاڑ جیل اور دیگر ہندوستانی اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں نظربند تمام سیاسی رہنماوں کی رہائی کے لئے عالمی فورمز پر ان کی آواز بنیں۔

ہندوستانی حکام کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں زندگی بری طرح متاثر ہے اور کشمیر کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.