fbpx

کشمیری نوجوان ہتھیار اُٹھا سکتے ہیں۔ برہان وانی کے والد کی گفتگو

برہان مظفر وانی کے والد مظفر وانی کا کنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بہت خاموشی ہے جو یہ طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تین برس قبل 2016ء میں شہید ہونے والے کشمیری مجاہد برہان مظفر وانی کے والد مظفر وانی نے کہا کہ بھارتی فوج کے تشدد کے باعث کشمیری نوجوان ہتھیار اُٹھا سکتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بہت خاموشی ہے جو یہ طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مظفر وانی کا مزید کہنا تھا کہ کرفیو ختم ہونے کے بعد آتش فشاں پھٹ سکتا ہے۔

 

مقبوضہ کشمیر میں 26 ویں روز بھی کرفیو کو برقرار ہے، بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کی نسل کشی کے نئے انتظامات کرلئے۔ سرینگر میں دو درجن سے زائد نئے بنکرز اور مورچے قائم کر کے مزید شارپ شوٹرز تعینات کر دئیے گئے۔پوری وادی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، ہر گلی، سڑک، شاہراہ پرقابض فوجیوں کی موجودگی باوجود کشمیری شہریوں نے زبردست احتجاج کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔

بھارتی فوج کی بربریت، کشمیری نوجوان شہید،25 روز سے کرفیو،کشمیری گھروں میں محصور

کیبل، ٹی وی، موبائل فون، لینڈ لائن سمیت دیگر سروسز تاحال بند ہیں۔ اخبارات 5 اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئے، تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، مریضوں کو ادویات نہیں مل رہی، میڈیکل سٹورز پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، غذائی بحران بھی سر اٹھا رہا ہے جس کے بعد کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

ایک کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ میں نماز پڑھ کر آ رہا تھا کہ بھارتی فوجی نے مجھ پر تین بار پیلٹ گنز چلائی، جس کی وجہ میں شدید زخمی ہو گیا اور لوگ مجھے ہسپتال لے کر گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود ہسپتال جانے کے لیے مجھے دس بار روکا گیا۔

کرفیو توڑ کر باہر نکلنے والے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چھ سالہ بچی والد کے ساتھ بائیک پر گئی تو اسے بھی پیلٹ گن سے نشانہ بنایاگیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے گھروں میں قید کشمیری محنت کش بھی بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔