خاتون کی شہادت، کشمیری سڑکوں پر نکل آئے،پاکستان زندہ باد کے نعرے، بھارتی فوجی کی شیلنگ

خاتون کی شہادت، کشمیری سڑکوں پر نکل آئے،پاکستان زندہ باد کے نعرے، بھارتی فوجی کی شیلنگ
مقبوضہ کشمیر میں سری نگر کے سینکڑوں شہریوں اور بھارتی دستوں کے مابین شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ جھڑپیں گزشتہ رات بھارتی فورسز کے ہاتھوں تین کشمیری حریت پسندوں اور ایک خاتون کی شہادت کے بعد شروع ہوئیں پولیس اور عینی شایدین نے بتایا کہ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا، جب جمعرات کو علی الصبح سینکڑوں کی تعداد میں مقامی شہریوں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں مزید چار شہادتوں کے بعد احتجاج کرنا شروع کر دیا۔مقبوضہ کشمیر پولیس کے مطابق یہ کارروائی شہر کے ایک رہائشی علاقے میں مبینہ حریت پسندوں کے چھپے ہونے کی خفیہ اطلا ع ملنے کے بعد نصف شب کے وقت شروع کی گئی تھی۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ذاکر احمد ولد نثار احمد ساکنہ آلورہ شوپیان، عبیر مشتاق ولد مشتاق احمد ساکنہ بدراگنڈ کولگام اور عادل حسین بھٹ ولد عبد الرشید بھٹ ساکنہ بٹپورہ چرسو کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا، مقامی میڈیا کے مطابق بھارتی سکیورٹی دستوں نے بٹہ مالو نامی علاقے میں ایک گھر میں متعدد حریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملنے پر علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔

سری نگر میں یہ مظاہرین شدید غصے میں تھے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،مظاہرین نے بھارتی سکیورٹی دستوں پر پتھراو بھی شروع کر دیا تھا۔ اس پربھارتی فوج نے ان کے خلاف آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا بھی کا استعمال کیا ۔یہ مظاہرین ‘پاکستان زندہ باد اور ‘ہم آزادی چاہتے ہیں جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں علیحدگی پسندی کی موجودہ تحریک کو اب کئی سال ہو چکے ہیں اور اس دوران اب تک بیسیوں ہزار افراد شہید کئے جا چکے ہیں۔ کشمیر میں ایسے تصادم زیادہ تر وادی کے مختلف شہروں میں تو ہوتے رہتے ہیں مگر دارالحکومت سری نگر میں ایسی خونریزی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے ۔ سری نگر میں گزشتہ رات سے پہلے اپنی نوعیت کا ایسا آخری واقعہ جون کے مہینے میں پیش آیا تھا، جب بھارتی دستوں کے ہاتھوں تین نوجوان شہید ہو گئے تھے اور کم از کم 15 مکانات بھی تباہ ہو گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.